وزیر اعظم کے ٹویٹ نے جموں وکشمیر سیاحت کو فروغ دیا

باغ گل لالہ:19 مارچ کوسیاحوں وسیلانیوں کیلئے کھولے جانے کاامکان

تقریباً600کنال اراضی پر پھیلے 68مختلف اقسام کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ رنگ بہ رنگے پھولوں کا مسکن

سری نگر//زبرون رینج کے دامن میں واقع براعظم ایشیاء کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن19 مارچ کو عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔تقریباً600کنال اراضی پر پھیلے 68مختلف اقسام کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ رنگ بہ رنگے پھولوں کے مسکن ’باغ گل لالہ ‘کی دیکھ بھال پرمامور محکمہ پھولبانی کے افسر ،فیلڈ عملہ اور باغبانوں ومالیوںنے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں تاکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں امسال باغ گل لالہ کو کچھ روز قبل ہی سیاحوں ،سیلانیوں اور مقامی لوگوں کیلئے کھول دیاجائے ۔خیال رہے سال2022میں باغ گل لالہ کو23 مارچ کو عوام کے لئے کھولا گیاتھا۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے بتایاکہ اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن، جسے پہلے سراج باغ کہا جاتا ہے، میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ٹیولپس ہیں جن کی60 سے زائد اقسام ہیں، جو کشمیر میں موسم بہار کی آمد پر توجہ کا مرکزبن جاتے ہیں۔محکمہ سیاحت کے مطابق اس سال 68 مختلف اقسام کے تقریباًڈیڑھ لاکھ ٹیولپ بلب لگائے گئے تھے۔ اورہمیں امید ہے کہ یہ باغ گل لالہ پورے ملک اور دنیا بھر سے آنے والوں کیلئے ایک مقبول سیاحتی مقام بنے گا، جو ہزاروں سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کرے گا۔کشمیر ٹیولپ فیسٹیول ہر سال اپریل کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔زبرون رینج کے دامن میں واقع ٹیولپ گارڈن سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے سے 18 کلومیٹر، سری نگر ریلوے اسٹیشن سے 17 کلومیٹر اور سری نگر کے لال چوک ( سٹی سینٹر) سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔بس کے ذریعے لال چوک سری نگر سے روٹ پر باقاعدہ بس سروس دستیاب ہے اور فی مسافر کرایہ محض 10روپے کے لگ بھگ ہے۔قریب ترین بس اسٹاپ بلیوارڈ روڈ پر چشمہ شاہی کراسنگ کے قریب ٹیولپ گارڈن سے تقریباً 900 میٹر کے فاصلے پر ہے۔بلیوارڈ روڈ پر قریب ترین بس اسٹاپ تک پہنچنے کیلئے لال چوک یا ڈل گیٹ سے مشترکہ ٹیکسی بھی لی جا سکتی ہے۔ لال چوک سے فی مسافر مشترکہ ٹیکسی کی قیمت 30 روپے اور دال گیٹ سے فی مسافر20 روپے ہے۔ حکام نے بتایاکہ سال2022میں تقریباًساڑھے تین لاکھ لوگوں بشمول سیاحوں نے ٹیولپ گارڈن کا دورہ کیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2017 کے ٹیولپ سیزن کے دوران ٹیولپ گارڈن میں ڈیڑھ لاکھ سیاح وسیلانی رجسٹرکئے گئے تھے،2018 میں یہ تعداد 1.83 لاکھ تھی جبکہ 2019 میں ٹیولپ گارڈن دیکھنے کیلئے آنے والے لاکھ سیاحوں وسیلانیوں کی تعداد تقریباً 2.10 لاکھ تھی۔تاہم سال2020میں کووڈ19کی وجہ سے باغ گل لالہ کوعوام کیلئے نہیں کھولاگیاتھا۔حکام نے بتایاکہ ٹیولپ گارڈن کا دورہ کرنے والے سیاحوں میں مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، شمالی ہندوستان اور کئی جنوبی ریاستوں کے سیاح شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مقامی لوگوں بشمول اسکولی طلبہ کی ایک بڑی تعداد بھی ٹیولپ گارڈن کودیکھنے کیلئے آتی ہے۔حکام کے مطابق سال2022میں تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی باغ گل لالہ کا دورہ کیا ،اورامسال بھی غیر ملکی سیاحوںکی بڑی تعداد کے یہاں آنے کی اُمید ہے۔سیاحتی صنعت سے وابستہ لوگوںنے بھی ٹیولپ گارڈن کا دورہ کرنے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی آمد پر امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغ کا بنیادی مقصد کشمیر کے سیاحتی سیزن کو مئی سے اپریل تک شروع کرنا ہے جس سے سیاحت کے شعبے میں مدد ملتی ہے۔حکام کاکہناہے کہ مقامی لوگوں اور سیاحوں دونوں کی طرف سے زبردست ردعمل رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاحوں وسیلانیوںکی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے کوملے گا ۔ انہوںنے بتایاکہ باغ گل لالہ میں آنے والے سیاحوں ومقامی لوگوںکے آرام اور سہولت کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔