نیدر لینڈ کے پی یو ایم ماہر نے اتل ڈولو سے ملاقات کی

جموں//نیدر لینڈ کے پروگرام Uitzendy منیجرز ( پی یو ایم ) ماہر نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ( اے سی ایس ) ایگریکلچر پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ اتل ڈولو سے ملاقات کی اور انہیں جموں و کشمیر میں آلو کیلئے مجوزہ انڈو ڈچ سینٹر آف ایکسی لینس ( سی او ای ) کے قیام کے بارے میں آگاہ کیا ۔ نیدر لینڈ کے مشہور آلو ماہر ہارم گرونیویگ کے ساتھ ڈاکٹر ترنم کدر بھائی لائزن آفیسر برائے پی یو ایم ، ڈائریکٹر ایگریکلچر جموں کے کے شرما ، آلو ڈیولپمنٹ آفیسر این پی سنگھ کے ساتھ وی کے Ambardar Astt Agrostologist اور روشن لال بھگت ایریا ڈیولپمنٹ آفیسر بھی میٹنگ کے دوران موجود تھے ۔ پروگرام کی کوارڈینیشن میسرز ڈی او کے کے رجت شرما نے کی ۔ اے سی ایس کو بریفنگ دیتے ہوئے پی یو ایم ماہر نے بتایا کہ ہندوستان اور نیدر لینڈ کا زراعت کے میدان میں جی 2 جی سطح پر ایک اسٹریٹجک تعاون ہے اور اس کا مقصد فصلوں کے تنوع کو متعارف کرانا ہے ، پیداوار میں اضافہ کرنا ہے اور جموں ڈویژن میں آلو کیلئے ایکسی لینس کا مرکز قائم کیا جائے گا جس کیلئے ڈچ ماہر مقامی حالات کے مطابق بنانے میں تعاون کرے گا ۔ یہ بات مشہور ہے کہ نیدر لینڈ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے علاوہ آلو کی کاشت اور مصنوعات کے تنوع میں مہارت رکھتا ہے ۔ انہوں نے اے سی ایس کو مختلف فارموں مثلاً آلو ڈیولپمنٹ فارم نتھا ٹاپ ، ایس ایم ایف چنور ، ایس ایم ایف کوٹلی میاں فتح اور کسانوں کے کھیتوں کے دورے کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کی رائے ہے کہ اس خطے میں مانگ کے مطابق پروسیسنگ اور میز کے مقصد دونوں کیلئے معیاری آلو پیدا کرنے کی کافی صلاحیت موجود ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سی او ای ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے جدید اور مربوط زرعی فارم ہیں جن کا مقصد کسانوں کو فائدہ پہنچانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی یو ایم سی او ای کے قیام ، ٹیکنالوجی کی منتقلی ، نئی اقسام کی درآمد کیلئے تیار ہے جس کیلئے ڈائریکٹر زراعت جموں کے ساتھ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ زیر عمل ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر اتل ڈولو نے کہا کہ جموں و کشمیر آلو کو دھان ، مکئی اور گندم کے بعد چوتھی غذائی فصل کے طور پر فروغ دے رہا ہے جس کیلئے ہم پی یو ایم ماہرین کی مہارت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ اے سی ایس نے مزید بتایا کہ زرعی شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے تحت وسیع منصوبہ پہلے سے ہی جاری ہے جس کیلئے پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے مہارت اور تکنیکی مداخلت کی ضرورت ہے ، جس سے فصل کی پیداوار کو مقامی اور قومی مارکیٹ میں مسابقتی بنایا جا سکے ۔