APTECHکمپنی کوخالی اسامیوں کے امتحانات منعقد کرانے کاکنٹریکٹ دینے کا معاملہ

ملازمتوں کے خواہشمند اُمیدواروںکا سری نگراورجموںمیں احتجاج

سری نگر،جموں//سرکاری ملازمتوں کے خواہشمنداُمیدواروںنے سری نگراورجموں میں جموں وکشمیر سروس سلیکشن بورڈکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خالی اسامیوں کے امتحانات مبینہ طور پرداغدار نجی کمپنیAPTECHلمٹیڈکے ذریعے منعقد کرانے پرسخت اعتراض جتایا۔اس دوران جموںمیں ہلکے لاٹھی چارج کے بعد کئی احتجاجی اُمیدواروںکوحراست میں لیاگیا۔ناراض اُمیدواروںنے APTECHلمٹیڈ پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (JKSSB) کے ذریعے مختلف سرکاری محکموںمیں خالی اسامیوںکی بھرتی عمل میں لانے کیلئے APTECHلمٹیڈکے ذریعے امتحانات منعقد کرانے کے فیصلے کیخلاف سرکاری ملازمت کے خواہشمنداُمیدواروں کی ایک بڑی تعداد بدھ کو پریس انکلیو میں جمع ہوئی اور مختلف امتحانات کے انعقاد کے لئے APTECHلمٹیڈ کو مبینہ طور پر کنٹریکٹ دینے کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاجی اُمیدواروں نے مطالبہ کیا کہ لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ پیپر لیک اور گھوٹالے صرف کشمیر میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں تمام بلیک لسٹ کمپنیوں پر پابندی لگائی جائے۔انہوںنے کہاکہ جب تک ان بلیک لسٹ کمپنیوں کیخلاف کارروائی نہیں کی جاتی،تب تک کوئی بھی طالب علم یااُمیدوارمقابلہ جاتی امتحانات میں نہیں بیٹھے گا۔احتجاجی اُمیدواروں نے الزام لگایا کہ APTECHلمٹیڈ ملک کے دیگر حصوں بشمول راجستھان، لیہہ، امبالا اور دیگر میں متعدد گھوٹالوں میں رہی ملوث ہے۔،اوربہت سے قومی اخبارات نے بھی ان گھوٹالوں کو اُجاگر کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ سرکاری نوکری کے خواہشمنداُمیدواروں کے خدشات کو دور کرنے کیلئے کچھ بھی اہم نہیں کیا جا رہا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے وسیع تر فائدے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔اُدھرتحریری امتحانات کے انعقاد کیلئے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈکی جانب سے پہلے بلیک لسٹ میں شامل کمپنی APTECHکی خدمات حاصل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے کئی اُمیدواروں کو پولیس نے بدھ کو جموںمیں حراست میں لیا۔حکام نے بتایا کہ مظاہرین شہر کے وسط میں ڈوگرہ چوک کے باہر جمع ہوئے اور ممنوعہ احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارچ نکالنے کی کوشش کی جب پولیس حرکت میں آگئی اور ان میں سے کئی کو حراست میں لینے سے پہلے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔مظاہرین نے جے کے ایس ایس بی کی جانب سے نجی فرم APTECH لمیٹڈ کی خدمات حاصل کرنے کے خلاف نعرے لگائے، جس کمپنی کو 2019 میں کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ کے انعقاد کیلئے بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔APTECH واپس جاؤ اور ہم انصاف چاہتے ہیںجیسے نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے بھرتی کے عمل کو بروقت مکمل کرنے میں مبینہ ناکامی کی وجہ سے وہ عمر کی حد عبور کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے کہاکہ وہ ایک امتحان منعقد کر رہے ہیں اور پھر اسے منسوخ کر رہے ہیں، ہمیں ایک ہی امتحان میں بار بار کتنی بار حاضر ہونا پڑتا ہے۔اُدھر جے کے ایس ایس بی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ APTECHکمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا معاملہ’سب جوڈیس‘یعنی عدالت میں زیرسماعت ہے۔تاہم، انہوں نے کہاکہ کمپنی کو مرکزی اور جموں و کشمیر حکومت کے رہنما خطوط کے مطابق رکھا گیا تھا کیونکہ اس نے پہلے ہی گزشتہ سال مئی میں بلیک لسٹ کرنے کی 3 سال کی مدت مکمل کر لی ہے۔JKSSBکے عہدیدار نے بتایاکہ جب ہم تحریری امتحان کے انعقاد کیلئے کسی کمپنی کا انتخاب کر رہے ہیں، تو ہم انتخاب میں شفافیت، جوابدہی اور انصاف کو یقینی بنانے کیلئے چیک اور بیلنس بھی لگاتے ہیں۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہم ایک ایسے طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں جو بڑی قومی سطح کی بھرتی ایجنسیوں کے معیارات سے میل کھاتا ہے۔