MS Bhatia

سیکورٹی فورسزوادی میں موجود کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کیلئے کوشاں : آئی جی سی آرپی ایف آپریشنز کشمیر

ملی ٹنٹوں کیخلاف کارروائیاں ایک مربوط انداز میں جاری، تمام سیکورٹی فورسزکے مابین مکمل تال میل:ایم ایس بھاٹیہ

اننت ناگ//مرکزی پولیس فورس(سی آرپی ایف ) کے انسپکٹر جنرل(آپریشنز ) کشمیرمنویندر سنگھ بھاٹیہ نے جمعہ کوکہاکہ سیکورٹی فورسزکشمیروادی میں مقیم کشمیری پنڈتوں کیساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ان کی سیکورٹی کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔جے کے این ایس کے مطابق بجبہاڑہ اننت ناگ میں ایک تقریب کے موقع پرصحافیوں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے سی آرپی ایف کے آئی جی آپریشنز کشمیر ایم ایس بھاٹیہ نے کہاکہ ہم کشمیری پنڈتوںکے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں جہاں بھی وہ وادی میں مقیم ہیں۔انہوںنے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کو مضبوط بنانے اور اُنہیں ہر ممکن حفاظتی احاطہ فراہم کرنے کیلئے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ کشمیرمیں جہاں کہیں بھی پنڈت موجود اورمقیم ہیں ،اُن کوبھرپور اورمضبوط سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے۔سی آرپی ایف کے آئی جی آپریشنز کشمیرکاکہناتھاکہ وادی میں موجود پنڈتوںکی سیکورٹی کاروزانہ کی بنیادوں پر جائزہ لیاجاتاہے ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر اور دیگر جگہوں پر تمام اقلیتی علاقوں کی سیکورٹی کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے،اور کشمیری پنڈتوںکیلئے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ کشمیر میں سرگرم ملی ٹنٹوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر سی آرپی ایف کے آئی جی آپریشنز کشمیر نے کہا کہ تعداد میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور اصل تعداد پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔اُن کاکہناتھاکہ ملی ٹنٹوںکی تعدادکبھی بڑھٹی توکبھی گھٹتی رہتی ہے ،اسلئے یہ کہنامشکل ہے کہ سرگرم ملی ٹنٹوںکی کیاتعدادہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جنوبی کشمیر میں 2سرگرم ملی ٹنٹ مارے گئے ہیں اور ملی ٹنٹوں کے خلاف کارروائیاں ایک مربوط انداز میں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں تحفظ کا احساس دلانے کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں اور ان کی سلامتی کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔جون میں شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کیلئے حفاظتی اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر سی آر پی ایف کے سینئر افسر نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جنوبی کشمیر ہمالیہ کی سالانہ یاترا کے لئے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ پچھلے سال، یاترا پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئی اور یاتریوں کی ایک بڑی تعداد آئی۔ اس سال بھی ہمیں بڑی تعداد میں یاتریوں کی امید ہے۔ ڈرون جیسی ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت سخت حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، آر او پیز، بلٹ پروف گاڑیوں کو اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ یاتریوں کو ایک شاندار تجربہ حاصل ہو۔ایم ایس بھاٹیہ نے کہا کہ یاتریوں کی سہولت کیلئے جو بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وہ پچھلے سال کی طرح اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی آر پی ایف کی ہیلپ لائن مددگر پچھلے سال بہت مددگار ثابت ہوئی اور اس سال بھی، ہم اسی انداز میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔آئی جی سی آرپی ایف نے مزید کہا کہ تمام سیکورٹی فورسز تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔انسداد بغاوت کی کارروائیوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں، سی آر پی ایف کے آئی جی ایم ایس بھاٹیہ نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے جوانوں کو محفوظ رکھیں اور اس کیلئے جو بھی تکنیکی اپ گریڈیشن ضروری ہے، جیسے نازک صورت حال سے نمٹنے والی گاڑی، جے سی بی، بلٹ پروف، تکنیکی آلات۔ وغیرہ۔ ہم اسے لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد دشمنوں کو اپنا کوئی نقصان اٹھائے بغیر بے اثر کرنا ہے۔ان رپورٹوں پر کہ وادی کے کچھ حصوں کے اندرونی علاقوں سے فوج کو ہٹا دیا جائے گا اور سی آر پی ایف کو اس کی ذمہ داری سونپی جائے گی،ایم ایس بھاٹیہ نے کہا کہ اس طرح کا فیصلہ مرکز کو لینا ہے اور ہمیں جو بھی رول دیا جائے گا ہم کریں گے۔