جموں وکشمیر میں ماہی پروری کی ترقی یوٹی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ مرکزی وزیرپرشوتم روپالا
ٹنگمرگ( بارہمولہ)//مرکزی وزیر ماہی پروری ، پشوو ڈیر ی پالن پرشوتم روپالا نے بارہمولہ کے عوامی رسائی پروگرام کے لئے اَپنے دورے کے دوران آنے والے موسم گرما کے لئے ٹرائوٹ فِش فارم ٹنگمرگ میں قائم ایکویریم کم بیداری مرکز کو آپریشنل کیا ہے۔مرکزی وزیر نے ٹرائوٹ ریئر نگ یونٹ ٹنگمرگ کا معائینہ کیا او ر ماہی پروری کی مختلف سکیموں اور ضلع میں عملائی جارہی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے کسانوں کے ساتھ ایک خصوصی اِستفساری سیشن کا بھی اِنعقاد کیا۔اُنہوں نے 39مستفیدین میں ماہی گیری کا سامان تقسیم کیا جن میں 14خواتین بھی شامل ہیں جن میں پی ایم ایم ایس وائی کی اِستفادہ کنندگان پر مبنی سکیموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔اِس موقعہ پر مرکزی وزیر نے اَفسران کو 2014ء کے تباہ کن سیلاب میں نقصان پہنچانے والے فِش فارم بیلا بارہمولہ کی اَپ گریڈیشن کے لئے تخمینہ تیار کرنے اور ڈی پی آر پیش کرنے کی ہدایت دی۔اِس سے قبل مرکزی وزیر نے پی ایم ایم ایس وائی / یوٹی کیپکس سکیم کے مختلف اجزأ کے تحت بارہمولہ کے 28مستفیدین کے حق میں 193.1لاکھ روپے کے منظوری نامے تقسیم کئے گئے ۔تقریب میں ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ بھی موجود تھیں۔مرکزی وزیر کو جانکاری دی گئی کہ جموں وکشمیر میں مچھلی کی پیداوار 25.40 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی میں ٹرائوٹ کلچر کی اِجارہ داری ہے اور یہاں ٹرائوٹ کی پیداوار 1,663 ٹن تک پہنچ گئی ہے ۔ سال 2021-22 ء کے دوران محکمہ نے ٹرائوٹ کے 148 لاکھ بیج تیار کئے ہیں اور 14 لاکھ ٹرائوٹ بیج ملک کی دیگر ٹھنڈے پانی والی ریاستوں کو برآمد کئے گئے ہیں۔محکمہ نے ماہی گیروں کو ورکنگ کیپٹل فراہم کرنے کے لئے ماہی گیری شعبے میں 696 کے سی سی کو منظوری دی ہے ۔محکمہ نے پرائیویٹ سیکٹر میں ٹرائوٹ کلچر کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے اننت ناگ او ربارہمولہ اَضلاع میں وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ سکیم ( او ڈی او پی) کے تحت ٹرائوٹ مچھلی رکھا ہے ۔ محکمہ ٹرائوٹ مچھلی کی مصنوعات کو جی آئی ٹیگنگ کے لئے رجسٹر کرنے پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ دُنیا کے نقشے میں یوٹی کو ٹرائوٹ کی پیداوار کے مرکز کے طورپرپیش کیا جاسکے۔مرکزی وزیر موصوف کو بتایا گیا کہ محکمہ ماہی پروری شعبے میںجموںوکشمیر یوٹی میں مچھلی کی پیداوار کو دوگنا کرنے کے مقصد سے زراعت کی مجموعی ترقی کے منصوبے ( ایچ اے ڈی پی ) کے تحت اَگلے پانچ برسوں میں ایک پروجیکٹ کو عملانے جارہا ہے جس کی کل لاگت 283.85کروڑ روپے ہے ۔ اِس پروجیکٹ میں مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت بڑھانے ، یوٹی کے تقریباً 2.50 لاکھ نوجوانوں کے لئے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا کرنے کا تصور کیا گیا ہے ۔ منصوبے کے تحت اہم تکنیکی اقدامات میں مچھلی کی ثقافت کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرنا جیسے آر اے ایس ، بائیو فلاک ، فیڈمل کا قیام ، ہیچری ، آئس پلانٹ وغیرہ پرائیویٹ سیکٹر کے تحت بڑے پیمانے پر اس کے علاوہ ڈیپارٹمنٹل فِش فارمز کی اَپ گریڈیشن اور مضبوطی شامل ہے تاکہ ان کی مکمل صلاحیتوں سے اِستفادہ کیا جاسکے ۔محکمہ ٹرائوٹ کی جینیاتی قوت ، ترقی کی شرح اور بقا کو بہتر بنانے کے لئے ایچ اے ڈی پی کے تحت رینبو اور برائون ٹرائوٹ کی جینیاتی طور پر بہتر آئیڈ کے 100لاکھ خرید رہا ہے ۔مرکزی وزیر پرشوتم روپالا نے فِش فارمنگ کی سرگرمی کو اَپنانے کی ضرورت پر زور دیا کیوں کہ یہ جموںوکشمیر میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار اَدا کرسکتی ہے۔مرکزی وزیر موصوف نے کشمیر کے علاقے کی اہمیت کو ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کی ترقی کے مرکز کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی طرف سے پیداواری صلاحیت اور آمدنی میں اِضافہ کے لئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں۔اِس منافع بخش منصوبے کو اَپنانے کے لئے زیادہ کسانوں کو راغب کرنے کے لئے ٹھنڈے پانی والی ریاستوں اور یوٹیز کے لئے ماہی گیروں او رخصوصی سبسڈی کا حصہ رکھا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کسانوں کو ٹرائوٹ کی مارکیٹنگ کے لئے مختلف سکیموں کی عمل آوری سے اور دیگر ریاستوں کو اِس کی برآمد کے ذریعے ا کی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے کے لئے مزید وسائل سے بھرپور بنایا جائے گا۔اُنہوں نے ماہی پروری محکمہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر ٹرائوٹ کی پیداوار میں سرفہرست ہے اور مختلف مرکزی اور یوٹی معاونت والی سکیموں اور ایچ اے ڈی پی کے تحت مجوزہ تکنیکی اقدامات کا کامیاب عمل آوری یوٹی حکومت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر فشریز محمد فاروق ڈار ، ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری کشمیر پورنیما متل اور محکمہ کے دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔










