جموں//جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی نے محکمہ لیبر اَفسران کے لئے تین روزہ تربیتی پروگرام کا اِنعقاد کیا جس کا آغاز ہوا۔اِس پروگرام کا مقصد لیبر قوانین سے متعلق مختلف قانون سازی کے تحت عدالتوں کی صدارت کرتے ہوئے نیم عدالتی فرائض کی اَنجام دہی میں اَفسران کی کارکردگی ، علم اورسکلز کو مزید بڑھانا ہے۔چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اور سرپرست اعلیٰ جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے چیئرپرسن جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس سندھو شرما اور جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راہل بھارتی سابق جج جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس بنسی لال بھٹ کی موجودگی میں تربیتی پروگرام کا اِفتتاح کیا ۔ اِس کے علاوہ اِفتتاحی تقریب میں رجسٹری اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اَفسران نے شرکت کی۔چیف جسٹس نے اِفتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اِنسانی محنت اورسکل پر مشتمل کسی بھی سرگرمی میں مسلسل بہتری لانے کے لئے جن لوگوں کو اس سرگرمی کا اَنجام دینے کی ضرورت ہوتی ہے انہیں تربیت دینا مقصد کے حصول میں اہم کردار اَدا کرتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ تربیت کا مقصد کسی فرد کو کسی کام یا کام کو مؤثر طریقے سے اَنجام دینے کے لئے ضروری علم ، ہنر اور رویوں کی منظم کوترقی دیناہے۔چیف جسٹس نے جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کی سراہنا کی کہ جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی نے محکمہ لیبر اَفسران کو لیبر قانونی علم اور معاشرے کے پسماندہ طبقے کے لئے فلاحی سکیموں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اِس خصوصی پروگرام کا اِنعقاد کیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ سُناتے وقت ، لیبر اَفسران جج کا کردار اَدا کرتے ہیں اور عدالتی نظام کا حصہ بنتے ہیں ۔اِس لئے اُنہیں مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت منصفانہ ، شفاف اور قوانین پر قائم رہنا چاہیے۔جسٹس سندھو شرما نے اَپنے خصوصی خطاب میں کہاکہ ہمارے ملک کی آزادی کے ابتدائی دائرے میں فلاحی ریاست کے تصور کی شروعات سے ہی مختلف قانون سازی کی کوششوں نے فلاح و بہبود ، مساوی حقوق ، سماجی اِنصاف، سماجی مساوات اور برابری پر شراکت دار کے طور پر لیبرکی مساوی شرکت کی سمت میں اَپنا پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محنت کشوں کی صحت ، حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے بہت سارے لیبر قوانین بنائے گئے ہیں۔ ان کو جابرانہ شرائط کے خلاف تحفظ فراہم کرنا کیوں کہ ایک اِنفرادی کارکن معاشی طور پر کمزور ہے ۔ آرگنائزیشن میں کارکنوں کی حوصلہ اَفزائی او رسہولیت فراہم کرنا ، صنعتی تنازعات سے نمٹنا ، سماجی بیمہ اور مزدوروں کی بہبودی سکیموں کو عملانا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ انسانی محنت کے وقار کی مطابقت اور انسان کے طور پر مزدور کے مفاد کے تحفظ کی ضرورت کو ہندوستانی آئین میں بنیادی حقوق اور ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کے مطابق مختلف دفعات میں شامل کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی ایم کے شرما نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں اِس پروگرام کے اِنعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ڈپٹی لیبر کمشنرجموں وینکشی کول نے شکریہ کہ تحریک پیش کی۔سابق جج جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس بنسی لال بھٹ کی زیر صدارت پہلے تکنیکی سیشن میں نیم عدالتی کاموں کی اَنجام دہی ، فریقین کی سماعت اور فیصلہ سازی کے دوران عدالتی اَخلاقیات ، لیبر کورٹس کی فیصلہ کن طاقت کی حد، طریقہ کار اور عمل کے حوالے سے بات کی گئی۔ظہرانے کے بعد تکنیکی سیشن کی صدارت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج (ریٹائرڈ)پون دیو کوتوال نے کی اور اُنہوں نے لیبر قوانین بشمول تصورات ، دائرہ کار اور متعلقہ دفعات کا جائزہ لیا ۔تین روزہ تربیتی پروگرام جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کی طرف سے قابل قدر معلومات فراہم کرنے اور محکمہ لیبر میں اَفسران کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ایک اہم اقدام ہے ۔ پیشہ ور اَفراد کے درمیان مسلسل سیکھنے اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے اکیڈیمی کی کوششیں قابل ستائش ہیں اور ایک باشعور اور ہنرمند اَفرادی قوت پیدا کرنے کے ویژن کے مطابق ہیں۔










