achan pulwama security guard

اچھن پلوامہ میں ملی ٹینٹوں کی فائرنگ اقلیتی فرقے کا بنک گارڑ ہلاک

ملوثین کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا: ڈی آئی جی جنوبی کشمیر

سری نگر//جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اچھن نامی گائوں میں اتوار کی صبح مشتبہ ملی ٹینٹوں نے بنک کے ایک سیکورٹی گارڑ پر گولی چلا کر اسے شدید زخمی کلر دیا ہے اس دوران اگر چہ زخمی بنک گارڑ کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مرردہ قرار دیا ۔واقعے کے فوراً بعد پولیس فوج اور فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش تیز کی ہے ۔ ادھر اس ہلاکت کے چند منٹ بعد ڈی آئی جی جنوبی کشمیر رئیس محمد بٹ نے علاقے کر کے حالات کا جائزہ لیا ۔انہوں نے بتایا ملوث ملی ٹینٹ بہت جلد ہلاک کیا جائے گا ۔ کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق اتوار کی صبح11بجے کے قریب بندوق برداروں نے پلوامہ کے اچھن نامی گائوں میں اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک بنک گارڑ پر نذدیک گولی مار دی اس دوران مزکورہ بنک گارڑمین پر گر پڑا جس کو فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ہے ۔پولیس نے بتایا سنجے شرما ولد کاشی ناتھ شرماساکن اچھن پلوامہ بازار جا رہا تھا جس دوران انہیں نذدیک سے گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا ہے پولیس نے بتایا سنجے فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ہے ۔اس واقعے کے بعد علاقے کو محاصرے میں لیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش تیز کر دی گئی ہے ۔اس واقعے کے بعد پولیس اور سیول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے علاقے کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا ۔ جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس رئیس محمد بٹ نے اتوار کو کہا کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ملی ٹینٹوںکے ہاتھوں کشمیری پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے بینک سیکورٹی گارڈ کو کن حالات میں مارا گیا، اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔واقعہ کی جگہ کا دورہ کرنے کے بعد ڈی آئی جی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیترگاؤں کے اچھن علاقے میں ملی ٹینٹوںنے سنجے شرما کے نام سے شناخت کیے گئے بینک سیکورٹی گارڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ملوث عسکریت پسندوں کو بہت جلد بے اثر کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے مذموم منصوبوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ جس جگہ واقعہ ہوا وہاں سیکیورٹی کے انتظامات تھے۔ “تاہم، جن حالات میں یہ واقعہ پیش آیا وہ تحقیقات کا حصہ ہے جو جاری ہے،” ۔اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ مقامی مسلمانوں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہم اس واقعے کی مزمت کرتے ہیں انہوں نے کہا ہم ایک ساتھ یہاں رہتے تھے اور اس بھائی چارے کو ختم کرنے اور نقصان پہنچانے کی جس نے بھی یہ مزموم کوشش کی ہے اس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔