مریضوں کے ساتھ ساتھ طبی عملہ کو بھی سخت مشکلات کا سامنا
سری نگر//عشپورہ قاضی آباد این ٹی پی ایچ سی میں بنیادی سہولیات کا فقدان۔مریضوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود عملہ کو بھی مشکلات کا سامنا تفصیلات کے مطابق شمالی کشمیر قصبہ ہندوارہ سے قریب 30کلومیٹر دور عشپورہ قاضی آباد کا ایک گاوں جو ایک پسماندہ گاوں ہے میں ایک این ٹی پی ایچ سے قریب ،بیس سال سے کام کررہا ہے لیکن حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے مذکورہ این ٹی پی ایچ سی میں بیس سال سے سرکاری نظروں سے دور ہے اس میں طبی سہولیات کا فقدان ہے مقامی لوگوں کی ایک شکایت پر جب وہاں میڈیا کی ایک ٹیم نے دورہ کیا اور یہاں مذکورہ ہسپتال میں بنیادی سہولیات اور اس کی خستہ حالت کو دیکھکر اس کی عکس بندی کرکے اسے حکام کے آنکھوں تک پہنچانے کی کوشش کی این ٹی پی ایچ سی عشپورہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور بلڈنگ بھی خستہ ہوگئی ہے اسپتال کی کھڑکیاں اور شیشے بھی ٹوٹ چکے ہے یہاں موجودہ سٹاف کو بھی رکنا مشکل ہے ہسپتال میں ایکسرے مشین سے لیکن۔یو ایس جی لیب اور دیگر مشنری نہیں ہے مقامی لوگوں نے بات کرتے ہوئے بتایا اسپتال بیس سال سے چل رہا ہے لیکن جو سہولیات بیس سال پہلے اس میں رکھی گئی وہی پر کام نبھایا جارہا یے یہاں ڈاکٹروں کی کمی اور سہولیات کا فقدان ہونے کی وجہ سے مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہسپتال مذکورہ کیلئے 24×7کھلا رکھنے کا کوئی آڈر یا دستاوز نہیں البتہ یہاں دورداز گاوں ہونے کی وجہ سے اور لوگوں کو سہولیات پہنچانے کیلئے کھبی کبار یہان تعنات عملے رات کو کبھی رک جاتا ہے لیکن کا یہاں رات کو رکنا بھی نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہاں جب کوئی حاملہ مریض کو لایا جاتا یا کسی ایمرجنسی مریض کو رات کے دوران لایا جاتا تو یہاں سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے اسے پھر ریفر کرنا پڑتا ہے ستم ظریفی کی بات یہ ہے اس ہسپتال میں ایمبولینس گاڑی دستیاب نہیں ہے انہوں نے کہا ایک گاڑی 2008میں دی گئی تھی لیکن اس گاڑی کی کنڈیشن اس طرح تھی چار ماہ کے اندر ہی وہ زمین پر اس ہسپتال کے صحن میں پڑی رہی وہ چلنے کے قابل نہیں تھی اس کے بعد لوگوں کی گزرشات کے بعد ایک اور ایمولنس لنگیٹ سے فراہم کی گئی جو صرف دو ماہ تک یہاں رہی اور اسے بھی واپس لیا گئی کسی وجوہات پر اس کے بعد ایک اور گاڑی دی گئی جس کا ڈرائیو کچھ سال پہلے ریٹائر ہوا اور اس گاڑی کو بھی یہاں سے غائب کیا گیا تب سے کوِی ایمبولنس گاڑی نہیں دی گئی لوگوں کا کہنا ہے جب یہاں کوئی ایمرجنسی مریض یا حاملہ خاتون کو منتقل کیا جاتا ہے کسی دوسری اسپتال کو تو اس کیلئے 108ایمولنس کو فون کرکے بولنا پڑتا لیکن جب تل وہ 108گاڑی کرالہ سے یہاں آجاتی تب تک بیمار کی حالت کچھ اور ہوجاتی یا اس کو یہاں لوکل سومو کے زریعے ہندوارہ یا بارہمولہ پہنچانا پڑتا ہے لوگوں نے کہا یہاں اس وقت موجودہ سٹاف اپنی فراِئض انجام دے رہا ہے لیکن ہسپتال میں سیولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لوگوں نے کہا اس این ٹی پی ایچ سی کیلئے ایمبولنس گاڑی اور ہر طبی سہولیات میسر ہونا کی اگر چہ اشد ضروت ہے لیکن ستمی ظریفی کی بات یہ ہے اس ہسپتال سیاست کے شکار ہوا ہے یہاں اسی لئے حکام محکمہ صحت توجہ نہہں دے رہا ہے لوگوں کا کہنا ہے یہ ایک دورداز علاقہ ہے اور ان علاقوں میں طبی سہولیات میسر رکھا کتنا ضرروری ہے لیکن بدقسمتی کی وجہ سے محکمہ صحت اس طرف توجہ نہیں دے رہا ہے انہوں نے کہا ایک طرف سرکار محکمہ صحت کی بلندبانگ دعوے کررہا ہے ان کی تعریف کررہی ہے لیکن دوسری جانب دورداز علاقوں میں یہ طبی مرکز صرف نام کے ہوتے ہیں کام کے نہیں مقامی لوگوں بے حکام بالا۔ڈائریکٹر ہیلتھ کشمیر۔ڈی سی کپوارہ سے گزراش کی کہ اس عشپورہ میں قائم این ٹی پی ایچ سی مرکز کی طرف دھیان دیں اور یہاں ہر طرح کہ طبی سہولیات خاص کر ایک گائنی لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی عملی میں لائی جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کا دور ہوسکے ۔










