سری نگر//محکمہ سیاحت نے سیاحوں کی طرف سے مختلف نوعیت کی 251 شکایات درج کی ہیں جو متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کی طرف سے جموںوکشمیر ٹورسٹ ٹریڈ ایکٹ ۔1078/2012 کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں درج کی گئی ہیںاور ان میں سے 247 کا تصفیہ اور جُرمانہ عائد کیا گیا ۔ غلط سروس فراہم کرنے والوں سے 21.95 لاکھ روپے کی وصولی کی گئی۔محکمہ نے اِس برس کے دوران 11.82 لاکھ روپے کی واپسی کو بھی یقینی بنایا ۔متعلقہ سروس فراہم کنند گان کی جانب سے ممکنہ سیاحوں کے حق میں ان سے من مانی چارج لینے یا انہیں وہ خدمات فراہم نہ کرنے پر جن کے لئے ان سے چارج کیا گیا تھا۔ محکمہ نے سیاحوں کی طرف سے کسی بھی شکایت کو دُور کرنے میں شفافیت اور جلد بازی لانے کے لئے اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیاہے ۔ تمام مقامات پر الگ الگ نگرانی ٹیمیں پہلے ہی قائم کی گئی ہیں جن میں متعلقہ ریزورٹ اَفسران ، ڈیولپمنٹ اَتھارٹیز اور ٹورسٹ پولیس کے نمائندے شامل ہیں۔یہ سینٹرل نگرانی ٹیم کے علاوہ ہے جس میں سینئر اَفسران شامل ہیںجو جے اینڈ کے ٹورسٹ ٹریڈ ایکٹ کی تعمیل کی جانچ کرے گا او راِس بات کو یقینی بنائے گا کہ سیاحوں کے ساتھ مہمان نوازی کی روایات کے مطابق سلوک کیا جائے ،وہ خود کو محفوظ محسوس کریں اور انہیں کسی بھی طرح سے دھوکہ دہی ، ٹائوٹنگ اور اوورچارجنگ کی شکایت نہ ہو ۔ محکمہ سیاحت نے تمام سیاحتی خدمات فراہم کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیاحوں سے کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا اوور چارجنگ سے باز رہیں ۔ محکمہ نے یہ واضح کیا ہے کہ جے اینڈ کے رجسٹریشن آف ٹورسٹ ٹریڈ ایکٹ ۔1078/2012 کے متعلقہ دفعات اور دیگر تعزیری قوانین کو منحرف شراکت داروں کی صورت میں اِستعمال کیا جائے گا۔سیکرٹری سیاحت سرمد حفیظ نے ناظم سیاحت کشمیر فضل الحسیب کے ساتھ محکمہ کی ایک حالیہ جائزہ میٹنگ کے دوران ریزورٹ اَفسران کو اِس سلسلے میں کڑی نگرانی کرنے اور کسی سروس فراہم کنندہ کو سیاحتی شعبے اور خدمات فراہم کرنے والوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اِجازت نہ دینے کی واضح ہدایات دی تھیں ۔محکمہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگر چہ یہ اچھی بات ہے کہ ہم سیاحوں کی آمد کا ایک زبردست سیزن دیکھ رہے ہیں لیکن یہ شراکت داروں اور محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاحوں کی شایان شان طریقے سے خدمت کی جائے اور ان کی خدمات کے لئے مناسب معاوضہ لیا جائے تاکہ وہ ایسی خوبصورت یادوں کے ساتھ واپس لوٹیں جس کے لئے وہ کشمیر آتے ہیں۔










