جموں و کشمیر وزیر اعظم کے جی ای پی کو نافذ کرنے میں ریاستوں ، یوٹیز میں آگے ہے

گذشتہ مالی سال کے دوران یو ٹی میں فلیگ شپ اسکیم کے تحت 21640 یونٹس قائم کئے گئے

سرینگر//تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 2021-22 کے دوران دلیگ شپ اسکیم پی ایم ای جی پی کے تحت 21640 یونٹس قائم کئے گئے ہیں جس نے سب سے زیادہ یعنی 1.73 لاکھ روز گار پیدا کیا ۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ یونٹس 2101 کروڑ روپے کے کُل سرمائے سے قائم کئے گئے ہیں اور کُل مارجن منی 467 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے جو دیگر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایم ایس ایم ای کی مرکزی وزارت نے اس اسکیم کے کامیاب کاروباریوں کی اختراعات اور عمدگی کو فروغ دینے اور انہیں ایوارڈ دینے کیلئے پی ایم ای جی پی ایوارڈز کی تقسیم کی ایک پہل شروع کی ہے ۔ اس سلسلے میں کامیاب کاروباری افراد سے آن لائن نامزدگی طلب کی گئی ہیں ۔ ایک اہلکار نے روز گار کی اس مہم کو جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی اور خود کو برقرار رکھنے کے وزیر اعظم کے وژن سے منسوب کیا ۔ جموں و کشمیر میں اس طرح کے بڑے پیمانے پر خود روز گار ریاست کو خود کفیل بنانے اور ترقی کے معاملے میں اسے دوسری ریاستوں کے برابر لانے کیلئے کے وی آئی سی کا ایک حصہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں پی ایم ای جی پی یونٹوں کی ریکارڈ تعداد اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کس طرح جموں و کشمیر کے لوگ ، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقامی معیشت کو مضبوط کرنے اور ریاست کی مجموعی ترقک کی راہ ہموار کرنے کیلئے سرکاری اسکیموں میں حصہ لے رہے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ 2021-22 میں جموں و کشمیر میں پی ایم ای جی پی یونٹوں کی اکثریت بارہمولہ ، بڈگام ، پلوامہ ، اننت ناگ ، گاندر بل ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ اور ڈوڈہ جیسے اضلاع میں قائم کی گئی ہے جو بڑے پیمانے پر عسکریت ہسندی کا شکار ہیں ۔ جموں و کشمیر میں 21640 پی ایم ای جی پی یونٹس میں سے 16807 ( 78 فیصد ) کا تعلق سروس سیکٹر سے ہے یعنی بیوٹی پارلر ، بوٹیک ، ایمبرائیڈری ، موبائل /کمپیوٹر کی مرمت کی دکانیں ، کھانے کی دکانیں وغیرہ ۔ اس کے بعد 1933 یونٹس ( 9 فیصد ) دیہی انجینئرنگ اور بائیو ٹیکنالوجی کے تحت جیسے اسٹیل فیبریکیشن اور سٹیل فرنیچر ، مصنوعی زیورات سازی ، ورمی کمپوسٹ اور بائیو فرٹیلائزر یونٹ ہیں ۔ نیز 1770 یونٹس ( 8 فیصد ) زرعی اور فوڈ پعوسیسنگ انڈسٹری سے متعلق ہیں ۔ پرائم منسٹرز ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام اسکیم نے نردیپ سنگھ کو ایک کامیاب کاروباری بننے میں مدد کی ۔ اپنی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک قابل فخر نردیپ سنگھ نے کہا کہ اس نے نوکری کیلئے بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی ۔ انہوں نے کہا ’’ میں نے جموں و کشمیر کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ اودھمپور سے رابطہ کیا ، جہاں ضلع افسر نے مجھے بریف کیا اور پی ایم ای جی پی اسکیم کے بارے میں قائم کیا اور اس طرح مجھ میں کاروباری شخص کو فعال کیا ۔ پھر میں نے ہائیڈرولک آلات کے یونٹ کا مینو فیکچرنگ کیلئے 24.96 لاکھ روپے کے قرض کی امداد کیلئے درخواست دی ‘‘۔ کیس کو بالآخر ڈی ایل ٹی ایف سی ( ڈسٹرکٹ لیول ٹاسک فورس کمیٹی ) نے منظور کر لیا ۔ زندگی میں ناکامیوں کے باوجود اس نے ایک خطرہ مول لیا اور بالآخر اس کا نتیجہ نکلا ، آج وہ اپنے علاقے کے 25 نوجوانوں کو روز گار دیتے ہیں ۔ ایم ایس ایم ای کی وزارت 2008-09 سے پرائمر منسٹر ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام ( پی ایم ای جی پی ) کو کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری کمیشن ( کے وی آئی سی ) کے ذریعے قومی سطح پر نوڈل ایجنسی کے طور پر نافذ کر رہی ہے تا کہ غیر فارم میں مائیکرو انٹر پرائیز شعبہ ز قائم کر کے ملک میں روز گار کے مواقع پیدا کر سکیں ۔ اسی طرح 44 سالہ محمد شفیع میر جو بیروہ بڈگام میں جدید اسٹیل اور ٹرنک فیکٹری کے مالک ہیں ، نے کبھی اپنے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس کیلئے 15 لوگوں کو ملازمت دیں گے ۔ مسٹر میر نے کہا کہ انہوں نے ضلع افسر بڈگام سے رابطہ کیا جب انہیں جموں و کشمیر کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری بورڈ کے تحت مختلف اسکیموں کے بارے میں بتایا گیا ۔ ’’ ضلعی افسر بغیر کسی رکاوٹ کے میری درخواست پر غور کرنے کیلئے کافی مہربان تھا ۔ میرا کیس ڈی ایل ٹی ایف سی کو بھیج دیا گیا اور آخر کار میرے حق میں 25 لاکھ روپے کا قرض منظور کر لیا گیا ‘‘ ۔ اس نے مزید کہا کہ جے اینڈ کے کے وی آئی بی کی حمایت کی وجہ سے اس کی آمدنی 3000 روپے سے بڑھ کر 25000 روپے ماہانہ ہو گئی اور اب وہ ایک کامیاب اور مطمئن کاروباری شخص ہیں ۔