ایلون مسک کی جانب سے کنٹرول سنبھالے جانے کے ایک ہفتے بعد مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر سے ملازمین کو برطرف کرنے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو نوکری ختم ہونے کی اطلاع دے دی گئی۔ایلون مسک نے اپریل 2022 میں ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد ہی کہا تھا کہ وہ ہزاروں ملازمین کو برطرف کردیں گے۔انہوں نے معاہدہ کرنے کے چند ماہ بعد 28 اکتوبر کو ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالا تھا اور یکم نومبر کو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ پلیٹ فارم کی کمائی بڑھانے کے لیے ویریفائڈ اکاؤنٹس ہولڈرز سے ماہانہ 8 ڈالر فیس وصول کریں گے۔اور اب انہوں نے ہزاروں ملازمین کی نوکریاں ختم کرتے ہوئے انہیں مطلع کردیا۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ٹوئٹر کے ہزاروں ملازمین کو 4 نومبر کو ملازمت ختم ہونے یا خطرے سے دوچار ہونے کی ای میلز وصول ہوئیں، جس کے بعد ملازمین کی ٹوئٹر کے ای میل اور چیٹنگ سرور تک رسائی بھی ختم کردی گئی۔ اخبار کے مطابق ٹوئٹر کی جانب سے ملازمین کو بھیجی گئی مختصر ای میل میں انہیں واضح طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا نہیں کہا گیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ آپ کی ملازمت ختم ہونے والی یا پھر خطرے سے دوچار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملازمین کو ہدایت کی گئی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں 5 نومبر کو کام کے لیے دفتر نہ آئیں اور اپنے گھر پر ہی رہیں، انہیں مزید معلومات آنے والے چند دن میں فراہم کردی جائے گی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ملازمین کو بھیجی گئی ای میل کسی فرد کی جانب سے نہیں بلکہ ٹوئٹر کی جانب سے بھیجی گئی اور اس میں لوگوں کی نوکریاں ختم ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔اسی حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 4 نومبر کو ہزاروں ملازمین کو نوکری ختم ہونے سے متعلق ای میل موصول ہوئیں اور ملازمین کو 5 نومبر کو دفتر آنے سے روک دیا گیا۔










