نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے ڈی سیز کو ترغیب دی جائے گی
سری نگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے آج محکمہ صنعت وحرفت کا تفصیلی جائزہ لینے اور جموںوکشمیر یوٹی میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت ، ڈائریکٹر س آف اِنڈسٹریز جموں/ کشمیر ، ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹس کے ڈائریکٹران جموں/ کشمیر ، ایم ڈی سیڈ کو اور سیکاپ ، ایم ڈی جے کے ٹی پی او اور بہت سے دوسرے متعلقین نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری کو سنگل وِنڈو کلیئر نس سسٹم کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری کی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے جانکاری دی گئی کہ زائد اَز 60,000کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز میں سے تقریباً10,000 کروڑ روپے کی صنعتی اِکائیاں پہلے سے ہی یہاں کے یوٹی میں عمل در آمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔اِس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان یونٹ ہولڈروں کے حق میں زمین کی الاٹمنٹ کے بعد اُنہوں نے 217 کروڑ روپے کی رقم سرکاری خزانے میں اَپنے لیز کے واجبات کے طورپر جمع کی تھی۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اَفسروں پر زور دیا کہ وہ سنگل وِنڈو سسٹم اور ٹائم لائن پر سختی سے عمل کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ صنعتی یونٹ آسانی سے قائم ہوں اور معیشت کو مضبوط کرنے اور ہمارے نوجوانوإ کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ بی اے آر پی کی طرف سے صنعتی ترقی کے لئے تجویز کردہ 352 میں سے بقیہ اِصلاحاتی نکات پر اِس ماہ کے اَندر عمل در آمد کیا جانا چاہیے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِنتظامیہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کی طرف سے اَپنے اَضلاع میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے کئے گئے اِچے کام کی حوصلہ افزائی کرے گی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرنے کے چند پیرامیٹروں پر تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کا جائزہ لیا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے کشمیر ہاٹ اور جموں ہاٹ کو متحرک تجارتی مراکز بنانے پر بھی زور دیا ۔ اُنہوں نے متعلقہ ڈائریکٹروں سے کہا کہ وہ سال بھر انہیں کاروباری مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کریں ۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ پنچایت سطح پر دیہی ہاٹ قائم کی جانی چاہئے جس میں بلاک اور ضلع کی سطح پر اِضافہ کیا جانا چاہئے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ایچ ایل ایل اے سی کی جانب سے 1,879 درخواست دہندگان کے حق میں جاری کردہ لیٹر آف انٹینٹ ( ایل او آئی ) سے 3,300 سے زائد درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے اور 260 درخواست دہندگان کی جانب سے لیز ڈیڈز کی گئی ہیں ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ 111 اِنڈسٹریل سٹیٹس میں اَب تک 9,869 کنال اراضی ممکنہ یونٹ ہولڈروں کو الاٹ کی جاچکی ہے۔نئی جائیدادوں کے بارے میں بتایا گیا کہ سیڈکو اورسیکاپ کی جانب سے 2,200 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے 37 ڈی پی آر تیار کئے گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ 2 پرائیویٹ سٹیٹس کے لئے بھی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ میٹنگ میں جموں و کشمیر کے دو شہروں میںہیلتھ کیئرکے پروجیکٹوں کے قیام کے لئے محکمہ کو موصول ہونے والی درجنوں تجاویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔میٹنگ میں جموںوکشمیر یوٹی میں غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر ہونے والی پیش رفت پر بھی غور وخوض ہوا ۔ اس نے یوٹی اِنتظامیہ کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد ان کمپنیوں کی طرف سے دی گئی مختلف تجاویز پر تفصیلی بات چیت کی۔ ان میں دبئی میں قائم کاروبار جیسے امار گروپ ، نون ڈاٹ کام ، المایا گروپ ، جی ایل ایمپلائمنٹ ، ماتو انویسٹمنٹ اور دیگر شامل ہیں۔










