سری نگر//گزشتہ دنوں سری نگرجموں قومی شاہراہ پر سیب سے لدے ٹرکوںکوکئی دنوں تک روکے جانے سے ناراض کشمیرکے پھل کاشتکاروں اورتاجروںنے سوپور ،شوپیان ،اننت ناگ اوردیگر مقامات پرقائم میوہ منڈیوںکوبطوراحتجاج بند کردیاتھا،اورسیب سے لدے ٹرکوںکی بیرون ریاستوںکی جانب روانگی بھی ماند پڑ گئی تھی لیکن اب صورتحال معمول پرآگئی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کی ہدایت پر محکمہ ٹریفک کی جانب سے سری نگرجموں قومی شاہراہ پر درماندہ پڑی سیب سے لدی گاڑیوں کوہنگامی بنیاد پر جموںکی جانب جانے کی اجازت دی گئی ۔حکام نے بتایاکہ شاہراہ پر پسیاں اورمٹی کے تودے نیز پتھر گرآنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل وحمل میں خلل پڑجاتی ہے ،انہوںنے بتایاکہ رواں ماہ کشمیر سے ملک کی مختلف منڈیوںکی جانب روانہ ہونے والی 30ہزار کے لگ بھگ گاڑیوں بشمول سیب سے لدے ٹرکوںکوروانہ کیاگیا۔حکام کے مطابق اب قاضی گنڈ یادوسرے کسی بھی مقام پر سیب سے لدے ٹرک موجودیادرماندہ نہیں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ روزانہ مخصوص وقت پر سیب سے لدے ٹرکوںکو قومی شاہراہ پر چلنے کی اجازت بغیرکسی روک ٹوک کے دی جاتی ہے ۔اس دوران کشمیر کے مختلف علاقوں میں قائم فروٹ منڈیوں میں معطل شدہ کاروباراورکام دوبارہ بحال ہوگیا ہے۔سوپورمیوہ منڈی سے منسلک میوہ تاجروں وپھل کاشتکاروںکی ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمد ملک عرف کاکہ جی اوردیگرمقامات بشمول شوپیان واننت ناگ میں قائم فروٹ منڈیوں کے ذمہ داروںنے بتایاکہ شاہراہ پر درماندہ پڑے سیب سے لدے ٹرکوں کی روانگی کے بعدانہوںنے اپنا کام دوبارہ شروع کردیا۔خیال رہے میوہ تاجروںنے میوہ منڈیوںکوبطوراحتجاج دودن کیلئے بند رکھاتھا۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا میوہ بغیرکسی رکائوٹ کے ملک کی منڈیوں میں وقت پر پہنچے ۔فیاض احمد ملک نے کہاکہ پھل کاشتکار اوربیوپاری سال بھر محنت کرتے ہیں ،اورپھر جب مال یعنی سیب کے مختلف اقسام بیرون ریاستوںمیں قائم منڈیوںکی جانب بھیجنے کاوقت آتا ہے تو قومی شاہراہ پر ٹریفک نظام میں پیداہونے والی مشکلات اوررکاوٹ سے ہمیں کافی پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔انہوںنے اُمید ظاہر کی کہ اب کشمیری سیب سے لدے ٹرکوںکوبغیر کسی رکائوٹ یاخلل کے قومی شاہراہ پر چلنے کی اجازت دی جائیگی ،تاکہ کشمیر کے پھل کاشتکار اوربیوپاری بھاری نقصانات اورخسارے سے بچ سکیں ۔انہوںنے کہاکہ ٹرک درماندہ ہونے کی وجہ سے پیٹیوں اورڈبوںمیں پڑے سیب سڑ جاتے ہیں اورمتعلقہ کاشتکاروں اوربیوپاریوںکونقصان اُٹھانا پڑتاہے ۔










