کشمیر میں میوہ صنعت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے:محمد یوسف تاریگامی
سری نگر//کشمیر میں میوہ صنعت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی جبکہ سرکاری حکام کا بیان ٹرکوں کی راہ داری میںزمین حالات کے برعکس ہے میں یہ سمجھ نے سے قاصر ہوں کہ غیر ملکی سیبوں میں سرکار اتنی مٹھاس سرکار کو کیسے محسوس ہوئی جبکہ غیر ریاستی ووٹران کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے ان باتوںسی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر و سابق ممبر اسمبلی کوگام محمد یوسف تاریگامی نے ایک روزہ کنونشن کے بعد میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق تاریگامی نے بتایاکشمیر میں پہلی بارسیبوں کی مارکٹنگ کے حوالے سے پوری کشمیر میںتشویش کی لہر دوڑ گئی اور یہاں کے لوگ زبردست پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کشمیری معیشت میں سیب کی صنعت کا ایک بڑا رول ہے جس کا مارکٹ تباہ کیا گیا ہے اور پہلء بار ایسا ہو ا ہے ۔تاریگامی نے سرکار سے سوال کیا ہے کیا یہ اچھے دن تھے ؟انہوں نے بتایاحال ہی میں سرکار نے کہا تھا اتنی دنوں کے بعد ٹرک کو جانے دیا جائے گا ۔انہوں نے سوال کیا ہے کہا گئے وہ وعدے جبکہ زمینی حالات بلکل مختلف ہے۔تاریگامی نے بتایا 8ہزار سے زیادہ ٹرکیں اس وقت سرینگر جموں شاہراہ پر درماندہ ہے ۔انہوں نے کہا اگر جموںسے آنے والی گاڑیوں کے لئے 12گھنٹے شاہرہ کھلی رہتی ہے ۔تو کشمیر کے لئے صرف چار گھنٹے کھلی کیوں ہے؟ ۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی سیب کی صنعت کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔تاریگامی نے بتایا یہ نہ صرف کشمیرکا مسئلہ نہیں ہے بلکہ شملہ اور اترا کھنڈ کا حال بھی اسے الگ نہیں ہے۔انہوں نے سرکار سے سوال کیا ہے ہمارے سیبوں اور ہمارے ساتھ یعنی اپنی ملک کے لوگوں کے ساتھ اتنی نفرت کیوںغیر ملکی سیبوں میں اتنا مزہ کیوںمحسوس ہو رہاہے ؟۔تاریگامی نے الزام لگایا حکام نے شاہرہ سے سے گاڑیوں کو نظر نہ آنے کے لئے انہیں دوسرے مقامات کی طرف موڈ لیا ہے ۔تاریگامی کولگام میں ایک کنونشن کے بعد میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کر رہے تھے ۔ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے بتایا کہ ہم نے حال ہی میں ایک میٹنگ طلب کی تھی ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے کہنے پر اور اس حوالے سے جموں میں بھی میٹنگ منعقد ہوئی۔انہوں نے کہا ووٹ کے سوال پر ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے۔محمد یوسف تاریگامی نے بتایا لیگل سمیت تمام چیزوں کو بروئے کار لا کر ایکی کمیٹی کے ذریعے آگے کا لاحہ عمل طے ہوگا ۔انہوں نے بتایا اس حوالے سے عوام کو بہت جلد خبردار کیا جائے گا ۔










