سیکرٹری صحت و طبی تعلیم نے ایس ڈی جیز کے حصول میں بڑھتی ہوئی کارکردگی کیلئے فیلڈ ملازمین کی کوششوں کی تعریف کی
جموں//ایک اہم سنگ میل میں جموںوکشمیر یوٹی نے حالیہ برسوں میں زچگی اور بچوں کی صحت سے متعلق متعدد اشاریوں میں ’’ قابلِ ذِکر بہتری‘‘ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ایک ہی برس میں جموںوکشمیر یوٹی میں پانچ سے کم اَموات کی شرح فی 1000 زندہ پیدائشوں میں 21سے 17پوائنٹس تک کم ہوگئی ، نوپیدائشی اَموات کی شرح 15سے12 ، ابتدائی نوپیدائشی اَموات کی شرح 10سے 8 اور پیدائش کے وقت جنسی تناسب رجسٹرار جنرل آف اِنڈیا سے 22؍ ستمبر 2022ء کو جاری کردہ نمونہ رجسٹریشن سسٹم شماریاتی رِپورٹ 2020 کے مطابق 918 سے بڑھ کر 921 ہوگئی ۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر یوٹی نے پہلے ہی عالمی ہدف سے بہت پہلے پانچ برس سے کم عمر کی اَموات کی شرح کو 25فی ہزار زندہ پیدائشوں سے کم کرنے کا عالمی ہدف حاصل کیا ہے ۔جموںوکشمیر نے لوگوں کی اچھی صحت اور بہبود کے دیرپا ترقی کے اہداف ( ایس ڈی جیز) میں ’’بڑھتی ہوئی ‘‘ کارکردگی دِکھائی۔قومی صحت مشن کے فعال تعاون سے پورے محکمہ صحت و طبی تعلیم نے جموںوکشمیر یوٹی کے عوامی صحت اِداروں میں سہولیت پر مبنی اور گھرپر مبنی نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کی مداخلت سے ضروری نوزائیدہ بچوں کی دیکھ ریکھ فراہم کرنے کی سخت کوششیں کی ہیں۔ حالیہ دِنوں میں نوزائیدہ کی زندگیوں کو بچانے کے لئے مداخلتوں کو بڑھانے میں پیش رفت میں کافی تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے صحت کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اِس سلسلے میں ایک جامع اقدامات میں صحت و طبی تعلیم محکمہ کی طرف سے مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود اور این آئی پی آئی کے تعاون سے جموں وکشمیر یوٹی میں آئی ایم آر کو سنگل ہندسے میں کم کرنے کے لئے روڈ میپ کی شکل میں ایک ایکشن پلان بھی شامل ہے۔ایکشن پلان کو تمام سطحوں پر عملایا جارہا ہے اور زچہ و بچہ کی صحت پروگراموں کو مضبوط بنانے سے بچوں کی اَموات میں کمی کی شرح کو تیز کرنے کے لئے کمیونٹی اور سہولیت پر مبنی مداخلتوں پر توجہ مرکز کی گئی ہے ۔ مزید یہ کہ ایمرجنسی کو وِڈ ریسپانس پیکیج کے تحت مناسب بنیادی ڈھانچہ بنایا جارہا ہے جو کہ طویل مدت میں جموںوکشمیر یوٹی میں صحت کے مختلف اشاروں کو مزید بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔سیکرٹری صحت و طبی تعلیم بھوپندر کمارنے نیشنل ہیلتھ مشن جموںوکشمیر کی کوششوں کی تعریف کی۔اُنہوں نے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالجوں ، ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز ، فیملی ویلفیئر ، آیوش کے تمام فیلڈ ملازمین بشمول ڈاکٹر پیرا میڈیکل سٹاف ، آشاورکروں اور پروگرام مینجمنٹ یونٹ کے عملے نے ریاست میں زچگی اور نوازئیدہ بچوں کی دیکھ ریکھ کو بہتر بنانے کی خاطر اَپنی مسلسل کوششوں کے لئے جس کے نتیجے میں مزید کمی میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح انہوں نے صحت کی بہتر معیاری خدمات کی فراہمی کے لئے مستقبل میں مسلسل کوششوں پر زور دیا تاکہ آنے والے برسوں میں ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔










