Mehbooba mufti

سرینگر جموں شاہراہ پر میوہ گاڑیوں کو روکنے کا عمل

دفعہ370کی تنسیخ کے بعد لوگوں کو بے اختیار کرنے کی پالیسی// محبوبہ مفتی

سرینگر//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر جموں شاہراہ پر میوہ سے بھری گاڑیوں کو کہی روز تک روکنے کے عمل کو جموں کشمیر کی معیشت کو زخ پہنچانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ کہ کہی اس عمل سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو،جس سے مشکلات پیدا ہونے کا موجب بنے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب سے جموں کشمیر میں دفعہ کو ختم کیا گیا ہے،تب سے یہ کاوشیں جارہی ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں بالخصوص وادی کے عوام کو بے اختیار کیا جائے۔ با غبانی کو جموں کشمیر کی معیشت کی ہڈی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میوہ سے بھری گاڑیوں کو کہی کہی روز تک شاہراہ پر روکا جاتا ہے اور جب تک وہ منڈیاں میں پہنچ جاتا ہے یا تو اس کی حالت خراب ہوئی ہوتی ہے یا اس کی قیمتیں کم ہوئی ہوتی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں کشمیر میں لاکھو لاگ با غبانی سے جڑے ہوئے ہیں اور انکا روزگار ہارٹی کلچر سے ہی جڑا ہوا ہے تاہم لگتا ہے” سرکار کی یہ پالیسی اور روایہ ہے کہ جموں کشمیر کے معیشت کی ہڈی کو توڑا جائے اور ان کے ہاتھوں میں کشکول دیکر انکی معیشت کو برباد کیا جائے۔” انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ شاہراہ پر کہیوں سیب سے بھرے ہوئے ٹرکوں کو تین،چار روز تک بے جا روکا جاتا ہے۔انہوں نے سرکار کو مخاطب ہوکرکہا”لگتا ہے آپ کی نیت میں کھوٹ ہے،اور چاہتے ہیں کہ جب تک میوہ منڈیوں میں پہنچے،تب تک وہ خراب ہو یا اس کی قیمت گری ہو۔” پی ڈی پی صدر نے کہا جموں کشمیر میں لوگوں کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا” جب یہاں حالات خراب تھے،باغبانی نے یہاں کی معیشت کو زندہ رکھا،یہشعبہ خراب ترین دور سے گزرہا ہے اور سرکار تماشایہ بن کر اس کا مزہ لے رہی ہے۔” محبوبہ مفتی نے سرکار کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کا لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو اور وہ بکھرے اور مشکلات پیدا کریں ،اس معاملے کو حل کریں۔