مبینہ ملزم کو قید کرنے سے اس کے کنبے اور اَفرادِ خانہ پر کئی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جسٹس ماگرے

سری نگر/ /ایگزیکٹیو چیئرمین جے اینڈ کے لیگل سروسز اَتھارٹی جسٹس علی محمد ماگرے کے ہمراہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ آر کے گوئیل اور قانونی خدمات کے اِداروں کے دیگر سینئر اَفسران نے سینٹرل جیل سری نگر کی صورتحال اور قیدیوں کے لئے سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے آج سینٹرل جیل سری نگر کا دورہ کیا۔جسٹس علی محمد ماگر ے کے پہنچنے پر سی آر پی ایف نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔اِس کے بعد ڈی جی پی جیلخانہ جات ایچ کے لوہیا جسٹس علی محمد ماگر ے کو قیدیں کے مرد اور خواتین بلاکوں مین لے گئے جنہوں نے قیدیوں کے ساتھ بات چیت کی اور موقعہ پر موجود قانونی خدمات کے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی یوٹی پی عدالت میں غیر حاضر نہ رہے ۔بعد میں جسٹس علی محمد ماگر ے نے پیشہ ورانہ مراکز کا بھی دورہ کیا جن میںنائی دُکان ، بیکری ، ٹیلرنگ سینٹر ، کار پینٹری ، کچن ، ہسپتال ، وِی سی سہولیت ، اِی ۔ملاقات سینٹر ، جمنازیم اور ڈرگ ڈی ایڈکشن سینٹر شامل ہیں۔ اُنہوں نے بالعموم محکمہ جیلخانہ جات بالخصوص جیل میں اعلیٰ معیار زندگی کو برقرار رکھنے اور قیدیوں کو تمام بنیادی ضروری سہولیات جیسے حفظان صحت کے مطابق خوراک، طبی سہولیات اور ہنر کی تربیت وغیرہ فراہم کرنے کے لئے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ جسٹس علی محمد ماگرے نے قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اِنصاف تک رَسائی کے لئے سب شامل ہے چاہے وہ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ۔ اُنہوں نے کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم لوگوں کے دو سیٹوں کے بارے میں بات کی ہے یعنی متاثرہ اور ملزم۔لیکن ایک اور طبقہ ہے جو نظام کی طرف سے غیر تسلیم شدہ رہتا ہے اور معاشرے کی طرف سے اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یعنی مبینہ ملزم کو قید کرنے سے اس کے کنبے اور اَفرادِ خانہ پر کئی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات میں ملزم / زیر سماعت قیدی ( یوٹی پی )کنبے کا واحد روٹی کمانے والا ہے ۔اِس کی غیر موجودگی کی وجہ سے کنبہ غربت اور دیگر معاشی ، سماجی ، قانونی یا نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے ۔ یہ خود کنبے کے اَفراد کے لئے اِنصاف تک رَسائی میں رُکاوٹ ہے ۔ اِس لئے حکومت جموںوکشمیر یوٹی کا فرض ہے کہ قیدیوں کے زیر کفالت اَفراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں تاکہ سب کے لئے اِنصاف تک رسائی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ بذریعہ ورچیول موڈ عدالتی سماعتوں کے سلسلے میں موجود قیدیوں اور اَفسران کی طرف سے اُٹھائے گئے چند مسائل کو تیزی سے حل کیا جائے گا۔بعد میں جیل کے قیدیوں کے گروپ کی طرف سے ایک ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا جس میں عمر نور ، وسیم فیروز ، اِرشاد اور گروپ شامل تھے ۔ ثقافتی تقریب کا متاثر کن موازنہ سادات مقصود ایک قیدی نے کیا۔اِس موقعہ پر موجود اَفسران میں ممبر سیکرٹری جموںوکشمیر ایل ایس اے ایم کے شرما، پی ڈی جے اینڈ چیئرمین ڈی ایل ایس اے سری نگر جواب احمد، سی پی سی ہائی کورٹ انوپ شرما، سیکرٹری ڈی ایل ایس اے سری نگر نور محمد، جوائنٹ رجسٹرار ( جوڈیشل عبدالباری، سپراِنٹنڈنٹ سینٹر جیل سری نگر دِلجیت سنگھ اور سبھا شال اور ڈی جی پی جیل خانہ جات کے سٹاف اَفسران شامل تھے۔