سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج نیوزی لینڈ کے جی ٹو جی کے ماہر مندوبین کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ جموںوکشمیر میںسمال ریومنٹ سیکٹر پر ٹیم کے ابتدائی اعلیٰ سطحی مشاہدات پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔میٹنگ میں ڈائریکٹر ایگر ی بزنس گروپ نیوزی لینڈ ڈاکٹر سٹورٹ فورڈ ، سائنس امپیکٹ لیڈر ، ایگر ی ریسرچ لمٹیڈ ڈاکٹر وارن کنگ، سینئر بی ڈی ایم نیوزی لینڈ ٹریڈ اینڈ اَنٹر پرائز نئی دہلی محترمہ سودھا پالت ، سیکرٹری اے پی ڈی جموں وکشمیر ، ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر / جموں ، ٹیکنیکل آفیسر ( اے )اے پی ڈی او ردیگر متعلقہ اَفراد نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ورچیول شرکت کی۔ماہرین کے وفد نے جموںوکشمیر سمال ریومنٹ سیکٹر کے سروے کو سمیٹ لیا اور اَپنی پرزنٹیشن کے دوران اے سی ایس کے ساتھ اَپنی معلومات اور تاثرات شیئر کئے اور کئی مشاہدات پیش کئے۔اَپنی پرزنٹیشن میں ماہرین کی ٹیم نے موجودہ سرکاری فارموں کی تعریف کی اور مشاہد ہ کیا کہ یہ فارمزاَپنے مقصد کے لحاظ سے آگے بڑھ رہے ہیں جو کہ جینیاتی مواد تیار کرنا ہے اور افزائش نسل کرنے والوں میں بہت اَچھی شہرت رکھتے ہیں۔اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ بھیڑ فارموں کو تیار کرنے کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ ان کے نظام کو بہتر خوراک فراہم کرنے کے لئے مؤثر بنایا جائے تاکہ وہ اَپنی عمومی صلاحیت کو مکمل طور پر ظاہر کرسکیں اور زیادہ سے زیادہ ممکنہ پیداوار اور مالیاتی نتائج فراہم کرسکیں۔اُنہوں نے اون اور مٹن کی مارکیٹنگ میں جموںوکشمیر کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش کا اِظہار کرتے ہوئے مصنوعی تخم ریزی اور اِی ٹی جیسی اہم ٹیکنالوجیز کا بھی مشورہ دیا۔ماہرین کے وفد نے چارے کی پیداوار اور متوازن غذائیت میں مدد فراہم کرنے، جدید لیبارٹریوں اور بیماریوں کی تشخیصی سہولیات کے قیام اور گوشت اور اون کی پیداوار کے اِنتخاب کو بہتر بنانے ، تعلیم کے زیادہ مواقع کے ساتھ موجودہ مہارت کے سیٹ کو آگے بڑھانے اور بڑھانے کے اہم فوائد میں اپنی مہارت کا اشتراک کرنے میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مشاہدے کے بعد ٹیم کو ایک ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے جس میں مختلف اجزأ کی متعدد ضروریات جیسے نئی نسلوں کو متعار ف کرنا، مقامی مطالبات کو پورا کرنا وغیرہ شامل کیا جاسکتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ خلا کی نشاندہی کرنے اوراس کو پورا کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ لیبارٹریوں کے قیام کے مقاصد پورے ہوں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ چیزیں ایک ایکشن پلان کا حصہ ہوسکتی ہیں اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جیسے کہ نسلوں میں بہتری کیسے لائی جائے تاکہ شیپ فارمنگ کو کسانوں کے لئے ایک پُر کشش پیشہ بنایا جاسکے اور اُنہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو مدد کی ضرورت ہے۔










