ملی ٹینٹ بڑی بندوقوں کے بجائے پستول استعمال کر رہے ہیں: پولیس
سرینگر//پولیس حکام کے مطابق وادی کشمیر میںمختلف آپریشنوں اور دیگر کارروائیوں کے دوران جنگجوئوں اور ان کے معاو نین سے130پستول برآمد کئے گئے ہیں جس سے یہ بات صاف ہے کہ ملی ٹینٹ اب بڑے بدوقوں کے بجائے صرف پستول استعمال کر رہے ہیں ۔ وادی کشمیر میں اب تک ٹارگٹ کلنگوں میں 8شہری مارے گئے ہیں جبکہ ایک درج کے قریب افراد جن میں کچھ غیر مقامی بھی تھے ان پر حملے کئے گئے ہیں ۔ کشمیرنیوز سروس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ سال رواں کے دوران اب تک جنگجوؤں کی تحویل سے 130 پستول بر آمد کئے گئے۔ کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی پی ) وجے کمار کے مطابق ان 130 پستولوں میں سے 35 پستول مختلف انکاؤنٹرز کے دوران بر آمد کئے گئے جبکہ باقی جنگجوؤں کے ماڈیلز تباہ کرنے کے دوران بر آمد کئے گئے۔انہوں نے بتایا سال2022میں اب تک بڑے پیمانے پر چھوٹے ہتھیاروں کی بر آمدگی اس بات کا عکاس ہے کہ جنگجو اب ٹارگیٹ ہلاکتوں کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بڑ چلینجبن کر سامنے آرہا ہے ۔جنوری 2022سے اب تک آٹھ شہری ہلاکتیں ہوئیں جبکہ قریب ایک درجن شہری، جن میں بیشتر غیر مقامی مزدور تھے،اور اقلیتی فرقے کے کچھ افراد بھی اسی نوعیت کے حملوں میں زخمی ہوگئے۔اور یہ واردات زیادہ تر جنوبی کشمیر میں واقع ہوئے ہوئے ہیں ۔ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملی ٹینٹ اب ٹارگٹ کلنگوں کے لئے پستول استعمال کر رہے ہیں ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ پستول کو اٹھانا اور چھپانا آسان ہے۔جموں وکشمیر پولیس نے پیر کو سری نگر میں 15 پستول بر آمد کئے۔آئی جی پی کشمیر نے اس بر آمدگی کو بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا: ’پاکستانی ہینڈلرس کی ہدایات پرسری نگر میں ٹارگیٹ ہلاکتوں کو انجام دینے کے لئے یہ پستول جنگجوؤں تک پہنچانے تھے‘۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سری نگر میں بر آمد کئے جانے والے یہ پستول سرحد پار سے اسمگل کئے گئے تھے اور جموں کے راستے یہاں پہنچائے گئے تھے۔حکام کے مطابق فورسز نے وادی کشمکیر میں گزشتہ سال 167پستول بھی برآمد کئے ہیں ۔










