sushil chandra

حد بندی کیساتھ’بہت سارے مسائل‘ تھے جن کو درست کر دیا گیا :سوشیل چندرا

سری نگر//اگلے ماہ سبکدوش ہونے والے چیف الیکشن کمشنر سوشیل چندرا نے جمعہ کو کہاکہ جموں و کشمیر میں ااسمبلی وپارلیمانی حلقوںکی سرنو حد بندی کی مشق کو انجام دینے کے دوران آبادی ایک اہم تھی لیکن واحد معیار نہیں تھی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو’ایک یونٹ‘کے طور پر دیکھا جانا چاہیے،جہاں90 اسمبلی حلقوں میں پوری آبادی کو نمائندگی دی جائے گی۔ جے کے این ایس کے مطابق سوشیل چندرا، جو حد بندی پینل کے سابقہ رکن تھے جس نے اس ماہ کے شروع میں جموں و کشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی تنظیم نو کے بارے میں اپنا حتمی حکم دیا تھا، نے یہ بھی کہا کہ پہلے کی حد بندی کے ساتھ’بہت سارے مسائل‘ تھے اور اب ان کو درست کر دیا گیا ہے۔ وہ بعض حلقوں کی جانب سے تنقید پر سوالات کا جواب دے رہے تھے کہ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو جموں کے مقابلے کشمیر ڈویڑن کو کم سیٹیں ملی ہیں۔6مارچ 2020کوتشکیل دئیے گئے جموں وکشمیرحدبندی کمیشن کے اہم رکن اورچیف الیکشن کمشنر سوشیل چندرا نے واضح کیاکہ آبادی حد بندی کے معیار میں سے صرف ایک ہے۔انہوںنے کہاکہ آبادی کے علاوہ، حد بندی ایکٹ اور جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کی دفعات کے مطابق 4 دیگر معیارات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے کے جسمانی حالات، مواصلاتی سہولیات، عوامی سہولتوں اور انتظامی اکائیوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔سوشیل چندرا کاکہناتھاکہ تو یہ چار دیگر معیار ہیں جن پر غور کرنا ہوگا۔ انہوںنے پھرکہاکہ یہ (آبادی) ایک اہم معیار ہے لیکن واحد معیار نہیں۔ اسے ذہن میں رکھاجانا چاہیے۔سوشیل چندرا، جنہوں نے ہفتہ کوچیف الیکشن کمشنرکا عہدہ چھوڑ دیا، کہا کہ جموں و کشمیر کو ایک اکائی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے،اسے مختلف حصوں میں (دیکھا) نہیں جا سکتا۔ یہ ایک واحد مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے،جہاں90 حلقوں میں پوری آبادی کو نمائندگی دینی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ وادی (کشمیر) کو کم دیا گیا ہے یا جموں (ڈویڑن) کو کم دیا گیا ہے،یہ بات صحیح نہیں بلکہ یہ 20 اضلاع اور 207تحاصیل پر مشتمل ایک پوری اکائی ہے۔ سوشیل چندراکاکہناتھاکہ ہمیں اسے ایک پوری اکائی کے طور پر دیکھنا پڑے گا۔خیال رہے جموں و کشمیر پر حد بندی کمیشن، جو مارچ 2020 میں تشکیل دیا گیا تھا، نے 5 مئی2022 کو اپنی حتمی رپورٹ مرکزی وزرت قانون کوپیش کی ، جس میں جموں خطے کو چھ اضافی اسمبلی سیٹیں اور ایک وادی کشمیر کو دی گئی اور راجوری اور پونچھ کے علاقوں کو اننت ناگ پارلیمانی سیٹ کے تحت لایا گیا۔جموں ڈویڑن میں اب 90 رکنی اسمبلی کی43 اور کشمیر کی 47 نشستیں ہوں گی۔تبدیلیاں مرکزی حکومت کی طرف سے مطلع کرنے کی تاریخ سے لاگو ہوں گی۔غورطلب ہے کہ مردم شماری2011 کے مطابق جموں ڈویڑن کی آبادی 53.72 لاکھ اور کشمیر ڈویڑن کی آبادی 68.83 لاکھ نفوس پرمشتمل ہے۔90 اسمبلی حلقوں میں سے،9 درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں – 6 جموں میں اور3 وادی کشمیر میںہیں۔