v

بابو سنگھ اینڈکمپنی حوالہ فنڈنگ کیس، SIA ٹیموںکی سری نگر اور جموں میں چھاپہ ماری

9مقامات پر تلاشی کارروائی،کچھ اہم دستاویزات ضبط

سری نگر//جموں و کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے جمعہ کے روز حوالہ فنڈنگ معاملے کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے 9مقامات پرچھاپہ ڈالکروہاں تلاشی کارروائی عمل میں لائی۔ سری نگر میں ڈی ایس پی محمد شفیع کی سربراہی میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسیSIA کی ایک ٹیم نے شریف الدین شاہ ولد سید غنی شاہ ساکنہ لارنو کوکرناگ حال سادات کالونی مہجور نگر کے گھر پر چھاپہ مارکارروائی انجام دی۔جے کے این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق، سابق ریاستی وزیر بابو سنگھ، ان کے ساتھیوں سدھانت شرما اور خالصتان تحریک کے سابق پروموٹر گرودیو سنگھ اور ہمت سنگھ کے قریبی ساتھی اشوک کمار بالی کے مختلف سرکاری اور رہائشی احاطے میں تلاشی کی گئی۔بابو سنگھ 2002 سے2005 تک پی ڈی پی-کانگریس حکومت میں وزیر رہے اور اب تنظیم ’نیچر-مینکائنڈ فرینڈلی گلوبل پارٹی‘ کے چیئرمین ہیں،کو9اپریل کو کٹھوعہ سے گرفتار کیا گیا تھاجبکہ وہ 31مارچ سے فرار تھا۔ ذرائع نے بتایاکہ چھاپے بابو سنگھ حوالہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ہیں۔ کٹھوعہ کے رہنے والے بابو سنگھ کو حوالہ کی رقم کا مرکزی سرغنہ بتایا جاتا ہے جس کیلئے محمد شریف شاہ نے سری نگر سے نقدی جمع کی تھی۔انہوں نے کہا کہ SIAنے سدھانت شرما کی بھی شناخت کی ہے۔ ایک شخص جو بابو سنگھ کے ساتھ جموں نقدی اکٹھا کرنے گیا تھا اور بعد میں اشوک بالی کو شریف شاہ سے رابطہ کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔بابوسنگھ گرفتاری سے بچ رہا تھا جب پولیس نے مبینہ طور پر ایک حوالا ریکیٹ کا پردہ فاش کیا اور مبینہ طور پر حوالہ رقومات کے لین دین کے ایک حصے کے طور پر4 لوگوں کو گرفتار کیا۔پولیس نے کہا کہ جموں میں ملزم سے برآمد کئے گئے6 لاکھ روپے سے زیادہ بابوسنگھ کو سونپے جانے تھے۔ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) کے ذرائع نے کہاکہ سابق ریاستی وزیر بابو سنگھ کے ساتھ جماعت کے کارکنوں کے روابط سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ سابق وزیر کے پاکستان میں کچھ لوگوں کے ساتھ روابط کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ایس آئی اے کے ذرائع نے مزید کہاکہ ہماری معلومات کے مطابق، بابو سنگھ نے ہمت سنگھ سے ملاقات کی، اس سے پہلے کہ وہ اپنا فون بند کر دے اور پھر اپنی گرفتاری سے بچنے کیلئے فرار ہو جائے۔ خیال رہے 31مارچ کو جموں و کشمیر پولیس نے شریف الدین شاہ کو جموں سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے 6 لاکھ90ہزار روپے کی رقم حوالہ لین دین کے معاملے میں ضبط کی۔پولیس نے کہا کہ اس کے پاس جموں میں حوالات کی رقم کی ہینڈلنگ کے بارے میں مخصوص معلومات تھیں۔پوچھ گچھ پر شریف الدین شاہ نے انکشاف کیا کہ اسے جتندر سنگھ عرف بابو سنگھ نے سری نگر میں ایک وقت سے رقم جمع کرنے کا کام سونپا تھا۔ رقم وصول کرنے کے بعد شریف الدین شاہ جموں آیا جہاں وہ پکڑا گیا۔ دوران پوچھ تاچھ شریف الدین شاہ نے اپنے مقامی اور غیر ملکی ساتھیوں جاوید اور خطیب ساکنان پاکستان زیرکنٹرول کشمیر اور فروخان ساکنہ ٹورنٹو، کینیڈا شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ شریف الدین شاہ ایک خفیہ واٹس ایپ گروپ کا ایڈمن بھی ہے جس کے ممبران مختلف ممالک سے ہیں۔