shopian encounter

چوہدری گنڈپاندوشن شوپیان میں رات بھر جاری رہنے والا انکاؤنٹراختتام پذیر

شہری ہلاک، ایک اور شہری و فوجی زیر علاج

محصورملی ٹنٹ آپریشن کی جگہ سے فرار ہونے میں کامیاب:دفاعی ترجمان

سری نگر / /پہاڑی ضلع شوپیان کے پاندوشن علاقہ میں پیرکی شام شروع کیاگیاجنگجومخالف آپریشن ایک عام شہری کی ہلاکت اورایک جونیئر فوجی افسروشہری کے شدیدزخمی ہونے کے بعداختتام پذیر ہوا جبکہ شہریوں کے زخمی ہوجانے سے پیداشدہ افراتفری کے بیچ یہاں محصور ملی ٹنٹ تاریکی کافائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔پولیس ودفاعی ترجمان نے ایک زخمی شہری کے ازجان ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ایک اورزخمی شہری کی حالت نازک مگرمستحکم ہے جبکہ زخمی لانس نائیک کی حالت مستحکم اور خطرے سے باہر ہے۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس ترجمان اورسری نگرمیں تعینات دفاعی ترجما ن نے الگ الگ بیانات میں بتایاکہ قصبہ شوپیاں سے تقریباً 4 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع چوہدری گنڈپاندوشن کے علاقے میںجنگجوئوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق اطلاع ملنے کی بنیاد پر،9 مئی کو شام 7بجکر45منٹ قریب فوج اور جموں وکشمیرپولیس کی طرف سے ایک مشترکہ محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی شروع کی گئی۔انہوںنے کہاکہ پیر کورات کے تقریباًساڑھے8 بجے ، جب سیکورٹی فورسزکی ٹیمیں ٹارگٹ ہاؤس کے گرد گھیرا قائم کر رہی تھیں، جنگجوئوں نے چاروں سمت سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس سے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔پولیس ترجمان اورسری نگرمیں تعینات دفاعی ترجما ن نے مزید بتایاکہ شہریوں کی جانوں کو شدید خطرہ محسوس کرتے ہوئے، سیکورٹی فورسزکی ٹیموں نے جنگجوئوں کی جانب سے شدید فائرنگ کے باوجود آپریشن کے مقام سے شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ جنگجوئوں نے خودکو گھیرے میںپانے کے بعد شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی تاکہ افراتفری پیدا کر کے فرار ہونے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ اپنی حفاظت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے، سیکورٹی فورسز شہریوں کی اکثریت کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب رہی، تاہم جنگجوئوںکی جانب سے مسلسل اور ٹارگٹ فائر کی وجہ سے ایک سپاہی لانس نائیک سنجیب داس اور2 شہری شاہد غنی ڈار اور صہیب احمد کو گولی لگنے سے زخم آئے۔دفاعی ترجمان نے کہاکہ فوج کے زخمی لانس نائیک اوردونوں شہریوں کو ہوائی جہاز سے92 بیس ہسپتال سری نگر پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں کی بہترین کوششوں کے باوجود شاہد غنی ڈار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ ایک اور شہری شعیب احمدمنٹو اور سپاہی سنجیو داس یہاں زیرعلاج ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کو روک دیا گیا ہے کیونکہ تصادم کے ابتدائی مرحلے میں جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔پی آر او (دفاع) سری نگر نے بتایا کہ زخمی شہری صہیب احمد کی حالت نازک لیکن مستحکم بتائی جاتی ہے،اور اس کی زندگی بچانے والی سرجری کی جائے گی جبکہ لانس نائیک سنجیب داس کی حالت مستحکم اور خطرے سے باہر ہے۔دفاعی ترجمان نے مزیدکہاکہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئیچوہدری گنڈپانڈوشن میں پھنسے جنگجو آپریشن کی جگہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔تاہم سیکورٹی فورسز نے ان کو پکڑنے کے لیے اپنی تلاشی مہم تیز کردی ہے۔