26سال گزرنے کے باوجود بھی سانحہ کی یادیں ہنوز تازہ
سرینگر//سانحہ چرار شریف کو رونما ہوئے 26 سال مکمل ہوگئے، سال 1995ء میں چرار شریف سانحہ نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ معرکہ آرائی کے دوران کے پورے چرار شریف قصبے کو آگ لگ گئی تھی جسکے نتیجے میں نہ صرف اربوں اور کروڑوں روپیہ کی مالیت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی تھی بلکہ بہت ساری جانیں بھی تلف ہوگئی۔ سا نحہ کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ندانیوز نیٹ ورک کے مطابق سانحہ چرارشریف کو 26 برس مکمل ہو گئے 8مئی 1995ء کو چرارشریف میں فوج اور جنگجوں کے درمیان خون ریز تصادم آرائی کے نتیجے میں جہاں بہت جانیں تلف ہوگئی تھی وہی اس تصادم آرائی کے نتیجے میں علمدار کشمیر شیخ العالم حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کی زیارت اور اس سے منسلک خانقاہ شریف بھی خاکستر ہوگئی تھی۔ علمدار کشمیر کی زیارت کی تعمیر600سال پرانی تھی جبکہ خانقاہ کا تعمیری ڈھانچہ400سال پرانا تھا۔ چرارشریف سانحہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔ 8مئی 1995ء کو فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ شیخ نور الدین ولی ؒکی زیر سایہ میں عسکریت پسندچھپے بیٹھے ہیں اور اطلاع ملنے کے ساتھ ہی فورسز نے چرارشریف کو اپنے محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی شروع کی۔فریقین کے درمیان تین دنوں تک تصادم آرائی کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران10 عام شہری11 فوجی اہلکار اور 9جنگجووں سمیت 30افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔8مئی شام کے وقت فوج اور جنگجووں کے درمیان معرکہ آرائی شروع ہوکر 11 مئی 1995دن کے چار بجے اختتام پذیر ہوگئی تھی۔ تین دنوں تک آگ و آہن کا کھیل جاری رہا۔انکاؤنٹر کے دوران پورے چرار شریف قصبے کو لگ گئی جس کی وجہ سے 700 رہا یشی مکان، 400دوکانات، 2 مسجد یں، 100کے قریب گائوخانے خاکستر ہوگئے تھی کروڑوں اور اربوں روپیہ مالیت کا جائداد راکھ کے ڈھیرمیں تبدیل ہوا تھا۔ چرارشریف میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے بعد چرارشریف کو نذر آتش کرکے سانحہ نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دو ماہ تک کشمیر وادی کے اطراف و اکناف میں احتجاجی ریلیوں، مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ اس دوران کشمیر وادی کے بجبہاڈہ علاقے میں لوگوں نے چرارشریف نذر آتش کرنے پر احتجاج کیا۔ احتجاج کرنے والوں پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند گولیا برسائی تھی جس کے نتیجے میں کئی جانیں تلف ہو گئی تھی۔ آگ و آ ہن کا کھیل کئی دنوں تک جاری رہا۔ اس دوران فوج نے چرارشریف کو 70 دنوں تک اپنے محاصرے میں رکھا اور لوگوں کو علاقے سے باہر آنے کی اجازت نہیں دیدی، فوج اورعسکریت پسندوں کے درمیان جھٹرپ کے دوران حز ب المجاہدین کے اس وقت کے کمانڈر میجر مست گل جو اس وقت سرخیوں میں چھایا رہا تھا فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔ چرارشریف کے سانحہ نے پوری وادی کو ہلا کر رکھدیا تھا جس کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے۔










