اس سال 18953غیر ملکیوں سمیت 22لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا:ڈائریکٹر ٹورازم

جموں وکشمیر سرمایہ کاری کی نئی منزل کے طورپر اُبھر رہا ہے

متعدد پالیسی اِقدامات کی بدولت جموںوکشمیر صنعتی سرمایہ کاری کے اہم مرکز کے طور سامنے آرہا ہے

سری نگر//جموںوکشمیر قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لئے ملک بھر میں سرمایہ کاری کی سب سے نئی منزل کے طور پر اُبھررہا ہے۔جموںوکشمیر صنعتی پالیسی 2021-30ء کا مقصد ’’ جموںوکشمیر ۔ روایت ، ترقی اور تبدیلی‘‘ منتقلی کا مظہر ہے جس سے جموںوکشمیر گزر رہا ہے ۔یہ جموںوکشمیر کو سرمایہ کاری کی ایک منافع بخش منزل میں تبدیل کرنے کے لئے دئیے گئے زور کی علامت ہے،اس ہمالیائی خطے کی منفرد سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی بنیادوں کو مدنظر رکھا گیاہے۔جموںوکشمیر یوٹی کے صنعتی منظر نامے پر ایم ایس ایم اِیز کا غلبہ ہے کیوں کہ یہ جی ایس ڈی پی میں تقریباً 8فیصد کا حصہ ادا کرتا ہے اور خدمات اور مینو فیکچرنگ شعبوں میں سب سے زیادہ لوگوں کو ملازمت فراہم کرتا ہے ۔تقریباً 25,000 ایم ایس ایم ایز جو جموںوکشمیر یوٹی میں کام کر رہے ہیں ۔جموںوکشمیر یوٹی میں تقریباً 90فیصد صنعتی اَفرادی قوت کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔اِس پس منظر میں جموںاور صنعتی پالیسی 2021-30ء گذشتہ پالیسیوں سال 1998ء،2004ء اور2016ء کے مقابلے میں ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ سال 2021ء میں 28,400 کروڑ روپے کی لاگت سے جموںوکشمیر صنعتی ترقی کے لئے مرکزی سکیم کو ڈیپارٹمنٹ فار پروموشن آف اِنڈسٹری اینڈ اِنٹرنل ٹریڈ( ڈی پی آئی آئی ٹی )،مرکزی حکومت کی طرف سے مطلع کیا گیا ۔ توقع ہے کہ اس سے جموںوکشمیر صنعتی طور پر ترقی یافتہ خطہ میں منتقلی کو تحریک ملے گی۔جموں وکشمیر پرائیویٹ اِنڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پالیسی 2021-30ء کو بھی حال ہی میں مطلع کیا گیا ہے۔ترقی پسند اِصلاحات جیسے جی ایس ٹی سے منسلک ترغیبات ، کیپٹل اِنٹرسٹ سبو ینشن اور ورکنگ کیپٹل اِنٹرسٹ انسیٹیو کو بھی عملا یا گیا ہے ۔ اِن پالیسی مداخلتوں سے ثمر آور نتائج حاصل ہو رہے ہیں کیوں کہ 50,000 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں ۔ اِن سرمایہ کاری سے 2.33 لاکھ روزگار کے اِمکانات پیدا ہونے کی اُمید ہے۔جموںوکشمیریوٹی میں صنعتی ماحولیاتی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لئے سنگل وِنڈو اپروچ کو ہموار کیا گیا ہے ۔مینی مائزنگ ریگولیٹری کمپلائنس برڈن( ایم آر سی بی ) کے مقصد سے جموںوکشمیر کے محکموں کی 130 خدمات کو آن لائن کیا گیا ہے۔جموںوکشمیر میں گذشتہ چند دہائیوں کے دوران تیز رفتار اَربنائزیشن کے مشاہدے سے مکانات اور تجارتی اِکائیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔جموںوکشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے پہلے کی رجعتی حدود نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مکمل ترقی میں کئی رُکاوٹیں کھڑی کیں ۔ اِس مشکل کو حل کرنے کے لئے پہلی بار جموںوکشمیر رئیل اسٹیٹ سمٹ2021ء کا اِنعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے 250 سرکردہ ڈویلپر وں سے شرکت کی۔مزید برآں ، مرکزی حکومت کے ماڈل ٹیننسی ایکٹ کو حکومت جموںوکشمیر نے اَپنایا ہے اور رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اَتھارٹی کے لئے پورٹل اور اثاثوں کی نیلامی ، جموںوکشمیر ہائوسنگ بورڈ ، جموں ڈیولپمنٹ اَتھارٹی ، سری نگر ڈیولپمنٹ اَتھارٹی کے رہائشی یونٹو ں اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ شروع کی گئی ہے ۔اِس کے علاوہ حکومت جموںوکشمیر اور نیشنل رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کونسل ( این اے آر اِی ڈی سی او) کے درمیان این یوایل ایم ( نیشنل اربن لائیو لی ہڈس مشن ) کے تحت رئیل اسٹیٹ کے سات تجارتوں میں ہربرس 10,000 اَفراد کو جموںوکشمیر میں ہنر مند بنانے کے لئے مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیں۔جموںوکشمیر میں متعارف کی گئی پالیسی تبدیلیاں لیفٹیننٹ گورنر کے دبئی ایکسپو 2020 کے دورے کے دوران عالمی سطح پر ممکنہ سرمایہ کاروں کے سامنے دکھائی گئیں۔جی آئی ٹیگڈڈ زعفران کی طرح سیب کی مشہور اقسام ، کشمیری آرٹ اور دستکاری سمیت دیگر نمائشیں کی گئیں ۔ اِس دورے کے دوران حکومت دبئی اور دیگر عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ مفاہمت نامے پر بھی دستخط کئے گئے۔صنعتی بااِختیار بنانے اور جموں و کشمیر میں متعدد اشاریوں میں جامع پیش رفت کی راہ میں بہت سے چیلنجوں کی توقع ہے۔ تاہم جموں و کشمیر میں قوانین و ضوابط، ادارہ جاتی تعاون اور مسابقتی ماحولیاتی نظام کی بحالی سے امید کی جاتی ہے کہ رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ جموں و کشمیر، ماضی کی اقتصادی تنہائی کے بالکل برعکس، ایک علاقائی اور قومی سرمایہ کاری کلسٹر کے طور پر اُبھرنے کے لئے بہت اچھی طرح سے تیار ہے۔