ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

2022-23ء میں 1,500 دیہاتوں میں سبز جگہیں بنانے کیلئے ’ وَن بیٹ گارڈ، وَن وِلیج ‘ پروگرام

اِس اِقدام سے لوگوں کو لکڑی ، بالن اور غیر جنگلاتی زمینوں سے گھاس کی ضروریات بھی پوری ہوںگی

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر 2022-23ء میں ’’ وَن بیٹ گارڈ، وَن وِلیج‘‘ پروگرام کے تحت جنگلات سے باہر کی زمینوں کو سبز کرنے کے لئے 1,500 گائوںکو دردست لے گی تاکہ گائوں کی مشترکہ زمین ، کاہچرائی اور دیگر بنجر زمینوں پر پودے لگانے کے لئے مفت پودے ، سیڈ بالز اور گھاس سلپس گائوں کی پنچایتوں کو فراہم کی جائیں۔’’ وَن بیٹ گارڈ، وَن وِلیج‘‘ تمام شراکت داروں بالخصوص پنچایتوں ، بی ایم سی ، جے ایف ایم ، این جی اوز اور دیگر سماجی اور سرکاری اِداروں اور محکموں کی شمولیت سے سبز کرنے کا کم لاگت والا اِخترعی طریقہ ہے ۔ اِس پروگرام میں مقامی کمیونٹیوں اور ان کے مقامی گورننگ اِداروں کی شمولیت کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کم لاگت والے سبز ہ زار مداخلتوں کے تحت دیہات کا تصور اور احاطہ کیا جاسکے۔ایک بیٹ گارڈ مطلوبہ اور منصوبہ بند ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ذمہ دار ہے جواِس علاقے کوسرسبز بنانے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک ریونیو گاؤں کا احاطہ کرے گااور متعلقہ گاؤں پنچایتوں،بی ایم سی وغیرہ کے اشتراک اور تعاون سے انجام دیا جائے گاجو اگلے 3 سے 5 برس تک اس کی نگرانی کریں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کی ایک حالیہ جائزہ میٹنگ میں ’’ وَن بیٹ گارڈ۔وَن وِلیج‘‘کے نئے اِقدام کی تعریف کی ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پہل گرین کور میں اِضافہ کرنے اور جل شکتی ابھیان کو ’’ بارش جمع کرو :کہاں گرتی ہے، جب گرتی ہے‘‘ کی حمایت کرنے میں بہت آگے جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کے ذریعہ شہری سبز جگہوں کی ترقی کے بارے میں کہا کہ شراکت داروں جیسے اربن لوکل باڈیز دیگرلائن دیپارٹمنٹوں ، تعلیمی اِدارے ، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی پہل شہری علاقوں میں فضائی اور صوتی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار اَدا کرے گی۔حکومت اِس پہل کے تحت جموںوکشمیر کے لئے ایک اَچھی طرح سے منصوبہ بند سبز مستقبل پر کام کر رہی ہے جس میں غیر جنگلاتی علاقوں کو سرسبز بنانے کے لئے کم لاگت والے ہریالی کے طریقے ہیں۔درختوں اور گھاس کی دیکھ ریکھ میں مقامی کمیونٹیاںاَپنے فائدے کے لئے کمیونٹی کی زمینوں پر سہولیت فراہم کرتی ہیں۔اِس اِقدامات سے لوگوں کی لکڑی ، بالن اور غیر جنگلاتی زمینوں سے گھاس کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔اِس کے علاوہ جنگلاتی علاقے سے باہر گھاس اور چارے کی پیداوار میں اِضافہ کر کے چرنے کی وجہ سے جنگلات پر پڑنے والے دبائو کو کم کیا جاسکتا ہے۔اِس اقدام کا مقصد زرعی جنگلات کے اِستعمال کے اِنتظام کے نظام کو بھی فروغ دینا ہے جس میں درخت یا جھاڑیاں آس پاس یا فصلوں یا چراگاہوں کے درمیان اُگائی جاتی ہیں۔کسی بھی قوم کی طاقت بنیادی طور پر اِس کے قدرتی وسائل میں ہوتی ہے ۔ ہندوستان کا شمار دُنیا کے بارہ بڑے متنوع ممالک میں ہوتا ہے ۔ جموںوکشمیر اَپنی جغرافیائی اور اونچائی کی تبدیلی کی وجہ سے پودوں میں بہت بڑا تنوع رکھتا ہے ۔ یہ ملک میں جڑی بوٹیوں کا سب سے زیادہ تنوع بھی رکھتا ہے۔اِنڈیا سٹیٹ آف فارسٹ رپورٹ( آئی ایس ایف آر)2021ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی)کی دو سالہ اشاعت جو وزارت ماحولیات، جنگلات اور کلائمنٹ چینج کے تحت ایک آرگنائزیشن ہے ، جموں و کشمیر ملک میں جنگلاتی علاقہ فی یونٹ کاربن کا سب سے زیادہ ذخیرہ رکھتا ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق سال 2019-20ء میں 73.16لاکھ پودے لگائے گئے ، سال2020-21 ء میں 101.98 لاکھ پودے اور 2021-22ء میں 137.20 لاکھ پودے لگائے گئے ۔ جموںوکشمیر میں 42قسم کے جنگلات سے ملک میں سب سے زیادہ متنوع جنگلات ہیں جو جموںوکشمیریوٹی میں جنگلاتی ماحولیاتی نظام کے تنوع کو ظاہر کرتے ہیں اور 144.16مکعب میٹر فی یونٹ رقبہ پر لکڑی کے کھڑے ہونے کے لحاظ سے فہرست میں سرفہرست ہے ۔گذشتہ برس کے دوران جنگلاتی رقبے میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2019ء میں، جموں و کشمیر میں جنگلات کا کل رقبہ 10.46 فیصد تھا جو سال 2020ء میں بڑھ کر 39.66 فیصد ہو گیا ہے۔محکمہ جنگلات نے سال 2021ء میں جموںوکشمیر کے تمام اَضلاع میں پروگرام کے تحت 1000 گائوں کا احاطہ کیا۔ ہر علاقائی فارسٹ ڈویژن نے 0.01 لاکھ روپے پودے لگانے کے لئے 35 ریونیو دیہات کو اپنایا جس میں 600 پودے اور 2000 سیڈ بالز شامل ہیں جن میں ہرگائوں میں گھاس کی 1000اقسام کی سیڈ بالز شامل ہیںجن کی پی آر آئیز، بی ایم سیز اور مقامی لوگوں نے دیکھ ریکھ اور حفاظت کی۔