سری نگر//عید الفظر کے سلسلے میں لوگوں نے ایک روز قبل ہی بازاروں کا رخ کر کے اشیاء ضرویہ کی جم کر خریداری کی ہے ۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو جن بوتل سے باہر آگیا ہے جس کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔جبکہ پر مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور اہلکار وں کی موجود گی کے باجود گوشت اور بیکری کے نرخ نامے بالائی طاق رکھئے گئے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق دنیا کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میںاتوار کی صبح سے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بازاروں میں نمو دار ہوئے ہیں جہاں وہ مختلف اشیاء کی خرید اری میں مصروف نظر آئے ہیں کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے لوگوں نے شکایت کی ہے بازاروں میں اکثر اشیاء کی قیمتیں سرکاری نرخ ناموں کے ساتھ میل نہیں کھاتے ہیں ۔لوگوں نے بتایا سرکارگوشت کی ایک ریٹ بتاتی ہے جبکہ بازراوں میں دوسری ریٹ پر اشیاء فروخت ہو رہے ہیں ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے ہم یہ سمجھ سے قاصر ہیں گوشت کے ساتھ ساتھ بیکری کی قیمتیں اچانک آسمان کو کیسے چھو گئے ہیں ۔بازار میں موجود لوگوں نے بتایا جو روٹی عید سے قبل5روپے میں تھی وہ آج7اورجو10روپے میں تھی وہ آج12روپے میں فروخت کی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا بیکری بسکٹ5سوسے11سو روپے تک ایک کلو ہے اس دوران بیشتر مقامات پر از خود تحصیل،سب ضلع اور ضلع انتظامیہ کے مختلف محکموں کے افسران بازروں میں دن بھر سرگرم رہے ہیں جہاں انہوں نے کئی دکانداروں کو جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ کئی ایک دکانیں سیل کئے ہیں ۔ انتظامیہ مشینری سرگرم ہونے کے باجوداکثر مقامات پر بیشتر دکاندار سرکاری نرخ ناموں پر عمل نہیں کر تے ہیں ۔ وادی کے تمام بازاروں میں عرفہ سے قبل عرفے کا حساس ہوا ہے جہاں لوگوں کی بھاری رش جگہ جگہ پر دیکھنے کو ملا ہے ۔اس دوران جموںو کشمیر بنک کی ایم پے کام نہ کرنے کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں صارفین کو طرح طرح کے مشکلات کا ساسامنا کرنا پڑا ہے ۔ جبکہ اس اپلی کیشن کے کام نہ کرنے کی وجہ سے تاجروں کے مطابق کام پر برا اثر پڑا ہے ۔ ادھر اے ٹی ایموں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملے ہیں ۔تاہم بیشتر لوگوں کا کہنا ہے وہ شدید مالی بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا اب وہ عید پر معمولی اشیاء خرید رہے ہیں تاکہ بچے وغیرہ عید منائیں ۔کچھ لوگوں نے بتایا وہ مزدوری کر کے دن گزار رتے ہیں تاہم وہ اس ماہ میں کوئی مزدوری بھی نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں2019سے لیکر2021تک لاک ڈوناور نا مسائد حالات کی وجہ سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموںو کشمیر میں اکثرلوگ طرح طرح پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔










