Shortage of power

جموں و کشمیر میں روزانہ دن کے وقت6گھنٹے بجلی کٹوتی کا اعلان

سری نگر//گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری سنگین بجلی بحران کے چلتے جموں وکشمیرکی انتظامیہ نے سنیچر کومرکزی زیرانتظام علاقے میں دن کے وقت روزانہ 6 گھنٹے بجلی کی کٹوتی کا اعلان کیا ۔اس دوران ٹنل کے آرپار بجلی کی عدم دستیابی اوراضافی کٹوتی نے عام صارفین کیساتھ ساتھ تاجروں ،کارخانہ داروں اورچھوٹے صنعت کاروںکو بھی شدیدمشکلات سے دوچار کردیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر بجلی کے غیر معمولی بحران سے دوچار ہے۔مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی انتظامیہ بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ مرکز نے اضافی207 میگاواٹ بجلی مختص کی ہے۔جہاں ملک کے دیگر حصوں میں تھرمل پاور اسٹیشنوں میں کوئلے کی کمی کی وجہ سے بجلی کا بحران شدید ہوتا جا رہا تھا، وہیں جموں و کشمیر بھی بجلی کی قلت سے دوچار تھا کیونکہ مقامیپن بجلی پروجیکٹوں میں بجلی کی پیداوار دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے سے اصل صلاحیت سے کم ہو کر تقریباً50 فیصد رہ گئی ہے۔پچھلے کچھ دنوں میں غیر طے شدہ بجلی کی بندش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید اور احتجاج کا سامنا کرنے کے بعد، جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) نے سنیچرکی صبح جموں شہر میں چھ گھنٹے بجلی کی کٹوتی کا اعلان کیا۔ تاہم رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ جموں ڈویڑن اور کشمیر وادی کے دیہی علاقوں میں بجلی کی حالت بدستور خراب ہے۔اس دوران معلوم ہواکہ کشمیروادی کے شہروقصبہ جات میں پہلے ہی دن کے وقت 6گھنٹے کی غیراعلانیہ کٹوتی لاگوہے جبکہ بیشتر دیہی اوردوردرازکے علاقوںمیں 24گھنٹوں کے دوران محض کچھ گھنٹے ہی بجلی وقفے وقفے سے دستیاب رکھی جاتی ہے ۔اس دوران ٹنل کے آرپار بجلی کی عدم دستیابی اوراضافی کٹوتی نے عام صارفین کیساتھ ساتھ تاجروں ،کارخانہ داروں اورچھوٹے صنعت کاروںکو بھی شدیدمشکلات سے دوچار کردیاہے ۔بجلی پرانحصار کرنے والے الیکٹرانک والیکٹریکل سامان کی مرمت اورتجارت سے وابستہ دکانداروں کاکہناہے کہ اُن کامرمتی کام عملاً ٹھپ ہوکررہ گیاہے ۔کارخانہ داروں اورچھوٹے صنعت کاروں کاکہناہے کہ اُن کے ہاں کاریگر اوردیگر لوگ بے کاربیٹھے رہتے ہیں اورجب کچھ وقت کیلئے بجلی سپلائی بحال ہوتی ہے توہی کچھ کام کیا جاتا ہے ۔برقی رئو پرانحصار کرنے والے دکانداروں ،کارخانہ داروں اورچھوٹے صنعت کاروںنے کہاکہ کام نہ ہونے سے اُنھیں ناقابل تلافی نقصان اورخسارہ ہورہاہے ۔انہوںنے بتایاکہ بجلی دستیاب رہنے کے دوران وہ اپنے ’انووٹرز‘ کوچارج پررکھتے ہیں ،لیکن بجلی جاتے ہی جب ہم انووٹر کوچالو کرتے ہیں ،تویہ بھی کچھ وقت بعدجواب دیتے ہیں ۔