مہلوک ڈپٹی کمانڈر دو فورسز اہلکاروں اور ایک دکان مالک کی ہلاکت میںملوث تھا / آئی جی پی کشمیر
سرینگر / /ضلع پلوامہ کے پہوعلاقے میں فوج و فورسز اور جنگجوئوںکے مابین مسلح تصادم آرائی میں لشکر ڈپٹی کمانڈر سمیت تین جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ آئی جی پی کشمیر نے جھڑپ میں لشکر ڈپٹی کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلوک کمانڈر کئی ہلاکتوں میںملوث تھا ۔ ادھر جھڑپ میںمارے گئے تین جنگجو ئوں میں سے 16اپریل کو لاپتہ ہونے والا سرینگر کا کم عمر نوجوان بھی شامل ہے ۔سی این آئی کو پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پہو پلوامہ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے اتوار کے بعد دوپہر علاقے کو محاصرہ میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کردی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی علاقے میں سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن شروع کردیا تو وہاں چھپے بیٹھنے عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ شروع ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اسی دوران فورسز کی اضافی کمک علاقے کی جانب روانہ کی گئی جنہوں نے پورے علاقے کو سیل کر دیا اور جنگجوئوںکے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے گئے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میںگولیوں کے تبادلے کے بعد علاقے کا محاصرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور ملی ٹنٹوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میںکچھ وقت تک گولی باری ہوئی اور جونہی علاقے میں گولیوںکا تبادلہ تھم گیا تو وہاں سے دو جنگجوئوںکی نعشیں بر آمد کر لی گئی ۔جس کے بعد علاقے میں پھر سے گولیوں کا تبادلہ ہو اور کچھ دیر بعد ایک اور جنگجو جاںبحق ہو گیا جس کے ساتھ ہی جھڑپ میں کل ملا کر تین جنگجو مارے گئے ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں ملی ٹنٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس و سیکورٹی فورسز کو محاصرے میںلیا گیا جس دوران وہاں جھڑپ شروع ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے جبکہ علاقے میں تلاشی آپرین جاری ہے ۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے جھڑپ میںتین ملی ٹنتوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے گئے جنگجو میں سے ایک لشکر کمانڈر کا ڈپٹی بھی شامل ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ عرف ہزار عرف رحان جو کہ لشکر کمانڈر ( باسط) کا ڈپٹی تھا بھی مارا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہلوک کمانڈر انسپکٹر پرویز احمد ، ایس آئی ارشد اور ایک موبائیل دکان مالک کی ہلاکت میںملوث تھا جبکہ اس کے خلاف سرینگر شہر میں کئی کیس درج تھے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجوئوں میں سے دوسرے کی شناخت سرینگر کے با با ڈیمب خانیار سے کچھ دنوں قبل لاپتہ ہونے والے کم عمر نوجوان ناتش شکیل وانی کے بطور ہوئی ہے جبکہ تیسرے جنگجو کی شناخت ابھی تک نہ ہو سکی ۔










