نئی نسل اپنے آباواجداد کے کام میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں
سرینگر//وادی میں گھریلو صنعتوں کا وجود اب دھیرے دھیرے ختم ہونے جارہا ہے ۔ نوجوان نسل اب آبائی صنعتوں کو چھوڑ رہی ہے کیوں کہ ہنر مندوں کی زندگی کسمپرسی میں ہی گزررہی ہے۔جبکہ سرکاری طور پر اس حوالے سے گھریلو صنعتوں کو بچانے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھائے جارہے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں گھریلو صنعتوں سے وابستہ اب مقامی صنعتوں کو دھیرے دھیرے چھوڑ رہے ہیں کہ کاریگروں اور ہنرمندوں کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملی جس کی وجہ سے وہ ان گھریلو صنعتوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ یہاں پر شال بافی ، قالین بافی، تانبہ سے متعلق کام ، رفگری ، پشمینہ کتائی و بُنائی، غبہ سازی ، پیپر ماشی ، اخروٹ کی لکڑی سے مختلف چیزیں بنانے کا کام وغیرہ عروج پر تھا ۔ تاہم دھیرے دھیرے مذکورہ صنعتیں دھیرے دھیرے ختم ہورہی ہے اور نوجوان نسل اب مقامی طور پر چلائی جارہی صنعتوں سے دور بھاگ رہی ہے ۔ ا س حوالے سے کئی ہنرمندوں اور صنعت کاروں نے سی این آئی کو بتایا کہ سرکار کی جانب سے گھریلو صنعتوں کی طرف عدم دلچسپی کی وجہ سے نئی پود اب مایوس ہوچکی ہے اور وہ گھریلوں طرز کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں لی رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ان صنعتوں سے وابستہ افراد کو دن کی دھاڑی بھی نہ ہونے کے برابر ملتی ہے ۔ اس مہنگائی کے زمانے میں دن بھر کام کرنے کے باوجود تین سو سے زیادہ نہیں کماپاتے ۔ جبکہ ایک عام مزدور کو دن کی اُجرت 600روپے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار ی طور پر صنعتوں کاروں کی فلاح و بہبود کے دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کچھ نہیں کیا جاتا ۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ اس سے منسلک ہیں وہ بھی اپنے روز گار سے مطمین نہیں ہے جس کی وجہ سے اب وہ یہ کام چھوڑ رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر میں اسلام کا ظہور ہونے کے ساتھ ہی امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒ نے یہاں کے لوگوں کی اقتصادی حالت میں سدھار لانے کیلئے ایران کے کی کئی صنعتوں کو یہاں رائج کیا جن میں قالین بافی، شال بافی، پشمینہ سازی، پیر ماشی و دیگر کام قابل ذکر ہے جس کے چلتے یہاں کے لوگوں کی اقتصادی حالت کافی سدھر گئی تاہم گذشتہ تین دہائیوں سے یہ صنعتیں دھیرے دھیرے اب کم ہوتی جارہی ہے ۔










