ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

کووِڈ لاک ڈاؤن کے دوران لاکھوں شہریوں کو اِمداد فراہم کرنے میںڈی بی ٹی ایک بڑا اعزاز

جموں//ڈائریکٹ بنیفٹ ٹرانسفر ( ڈی بی ٹی )غربت میں کمی کا ایک اِقدام ہے جس میں سرکاری سبسڈی اور دیگر فوائد غریبوں کو نقد ی کے بجائے براہِ راست اُن کے بینک کھاتوں میں دئیے جاتے ہیں۔اِسی طرح مالی شمولیت اَفراد کو بینک کاری اور مالیاتی خدمات پیش کرنے کا ایک منفرد طریقہ ہے ۔اِس کا مقصد معاشرے کے ہر فرد کو ان کی آمدنی یا بچت سے بے فکر بنیادی مالی خدمات دے کر شامل کرنا ہے۔یہ معاشی طور پر پسماندہ افراد کو مالیاتی حل فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔جموںوکشمیر حکومت تمام اِنفرادی استفادہ کنندگان کی سکیموں بالخصوص2022-23ء کے دوران مختلف سکالرشپ سکیموں کے تحت صد فیصدکوریج حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ صد فیصدآدھار سیڈنگ کے علاوہ تمام مستفیدین پر مبنی سکیموں کے سلسلے میںصد فیصد سیچوریشن حاصل کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ اِس برس مختلف سماجی تحفظی سکیموں کے تحت ڈائریکٹ بنیفٹ ٹرانسفر ( ڈی بی ٹی ) کے ذریعے زائد اَز65 لاکھ مستحقین کو 2,017 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔کووڈ۔19وَبائی امراض کے دوران گذشتہ کچھ برسوں میں سماجی تحفظی فوائد کو بڑھانے کے لئے تقریباً 2,72,465 مستفیدین کو شامل کیا گیا ہے۔زائد اَز 1.66 لاکھ کارکنوں کو چار ماہ کے لئے ماہانہ 1000 روپے کی امداد فراہم کی گئی ہے۔زائد از 70,000 بے سہارا، کچی آبادیوںمیں رہنے والے، مائیگرنٹ مزدوروں کو راشن فراہم کیا گیا۔مالی شمولیت کا مقصد مالی استحکام کی تعمیر اور اسے برقرار رکھنا ہے تاکہ کم خوش قسمت لوگوں کو فوائد تک رَسائی حاصل ہو جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ۔ آدھار پیمنٹ برج ( اے پی بی ) سسٹم ، ادائیگی کے منفرد نظاموں میں سے ایک ، آدھار نمبر کو ایک مرکزی کلید کے طورپر استعمال کرتا ہے تاکہ مطلوبہ مستفیدین کے آدھار این ابیلڈ بینک اکائونٹس ( اے اِی بی اے ) میں سراکری فوائد اور سبسڈیز کو الیکٹرانک طور پر چینلائز کیا جاسکے۔کووِڈ۔19 وَبائی بیماری کے پھیلنے، لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے اصولوں عمل آوری سے ڈی بی ٹی اُن لاکھوں شہریوں کو مدد اور راحت فراہم کرنے میں ایک اعزاز بن کر اُبھرا جن کی روزی روٹی متاثر ہوئی تھی۔ جیسے جیسے بحران بڑھ رہا تھا، پبلک فائنانشل مینجمنٹ سسٹم ( پی ایف ایم ایس ) ٹیم نے اس مشکل کے دوران حکومت کی مالیاتی مشینری کے بہتر کام کرنے میں سہولیت فراہم کرتے ہوئے چیلنج کو قبول کیا۔
جموںوکشمیر کی حکومت نے کووِڈ وبائی اَمراض کے بعد معیشت کو بحال کرنے کے لئے اچھے طریقے سے اِقدامات کئے ہیں ۔ ستمبر 2020ء میں اعلان کردہ 1,350 کروڑ روپے کے اِقتصادی بحالی پیکیج کو اَچھی پذیرائی ملی ہے اور اَب تک 3.44 لاکھ اکائونٹ ہولڈرون اور قرض لینے والوں کو 6ماہ کے لئے 750 کروڑ روہے 5فیصد اِنٹرسٹ کی رعایتی طور پر فراہم کئے ہیں۔راشن کارڈوں کی آدھار سیڈنگ مکمل طور پر حاصل کی گئی ہے ۔ اِس کے علاوہ مستفیدین کی سطح پر 99.60 فیصد آدھار سیڈنگ کا اِندراج کیا گیا ہے جسے 2022-23ء میں صد فیصد مکمل کرنے کا ہدف ہے۔آتما نربھر بھارت ابھیان کے تحت60,736 قرض دہندگان کو گارنٹی شدہ ایمرجنسی کریڈٹ لائن -1 ( جی اِی سی ایل ۔ 1) کے تحت فائدہ پہنچایا گیا ہے جس میں 1,878 کروڑ روپے شامل ہیں۔ 98,566 انفرادی مستفیدین کو مفت چاول اور 31,069 کنبوںکو دالیں فراہم کی گئیں۔ بزنس سپورٹ لون کے تحت 289 قرض لینے والوں کو فائدہ ہوا ہے جس میں 74.37 کروڑ روپے شامل ہیں۔ پی ایم ۔ ایس وِی اے ندھی سکیم کے تحت 14,514 مستفیدین کو 10,000 روپے کے ابتدائی ورکنگ کیپٹل کے ساتھ اسٹریٹ وینڈروں کے لئے خصوصی کریڈٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ 8.27 لاکھ کسان کریڈٹ کارڈ (کراپ) کھاتہ داروں کو 5,841 کروڑ روپے اور 1.26 لاکھ کے سی سی ۔ اینمل ہسبنڈری اینڈ فشریز (اے ایچ اینڈ ایف) کھاتہ داروں کو 637 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔ پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم یو)کے تحت 1,52,703 مستفیدین کو 3,464 کروڑ روپے کا قرض دیا گیا ہے جبکہ 23,434 قرض کے معاملات جن میں نوجوانوں کے لئے 407 کروڑ روپے شامل ہیں جن کی شناخت ’’بیک ٹو ولیج‘‘ پروگرام کے دوران کی گئی ہے۔ 19,645 نوجوانوں کو پہلے ہی اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے بینکوں سے 336.79 کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا جا چکا ہے جن میں 6,679 خواتین کاروباری شامل ہیں۔مالیاتی تدبر، شفافیت اور رشوت کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اصولوں کے تعارف نے منصوبے کی عمل آوری میں انقلاب برپا کیا ہے اور مالی شمولیت اور سماجی مساوات میں اضافہ کیا ہے۔ انتظامیہ میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لئے کئی اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ آج ایک رشوت سے پاک حکمرانی کا نظام غریبوں کے فائدے کے لئے کاغذ کے بغیر، فیس لیس طریقہ کار کے فریم ورک کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔