kpdcl

جموں و کشمیر نے 1900ایم وِی اے ترسیلی صلاحیت میں اِضافہ کر کے ایک نمایاں پیش رفت حاصل کی

سری نگر//جموںوکشمیر نے لوگوں کو چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کو پورا کرنے کے لئے سال 2022ء میں تقریباً 1900 ایم وی اے کی ترسیلی صلاحیت میں اِضافہ کر کے ایک نمایاں پیش رفت حاصل کی۔گذشتہ برس میں پاور جنریشن ،ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن شعبوں میں بے مثال کامیابیوں نے جموںوکشمیر پاور بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کیا ہے کیا ہے جو کئی دہائیوں سے خستہ حال تھا اور بجلی شعبے میں جموںوکشمیر یوٹی کی طرف سے حاصل کی گئی قابل ذکر پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے ۔31؍ مارچ 2021ء کو کل ٹرانسمیشن کی گنجائش 9,153 ایم وی اے تھی اور ایک برس کی ٹرانسمیشن میں یہ صلاحیت 11,016 ایم وِی اے تک پہنچ گئی۔جموںوکشمیر یوٹی حکومت اگلے چار برسوں میں جموںوکشمیر کی بجلی کو سرپلس بنانے کے لئے کام کر رہی ہے کیوں کہ حکومت کی توجہ مرکوز اِنٹرونشن سے آنے والے تین برسوں میں یوٹی میں بجلی کی پیداوار ی صلاحیت کو دوگنا کرنے کا اِرادہ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا کہ جموںوکشمیر گذشتہ 70 برسوں میں صرف 3,500 میگاواٹ بجلی اِستعمال کرنے میں کامیا ب رہا ہے لیکن جموں وکشمیر یوٹی میں بجلی کی پیداواری صلاحیت اگلے تین برسوں میں دوگنی اور سات برسوں میں تین گنا ہو جائے گی۔اُنہوں نے کہا ،’’بجلی کے موجودہ خسارے کو پور ا کرنے کے لئے ہم نے بڑے پیمانے پر صلاحیت بڑھانے کا پروگرام شروع کیا ہے۔70 برسوں میں جموںوکشمیر صرف 3,500 میگاواٹ کا اِستعمال کرنے میں کامیاب تھا اور اَب پیداواری صلاحیت تین برسوں میں دوگنی اور سات برسوں میں تین گنا ہو جائے گی۔‘‘دو ہزار کروڑ روپے کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پروجیکٹ مکمل کئے جارہے ہیں اور مرکزی حکومت کی طرف سے جموںوکشمیر یوٹی میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لئے 6,000 کروڑ رویپ کی اِضافی رقم مختص کی گئی ہے۔تمام شہریوں اور کاروباری اِداروں کو معیاری بجلی فراہم کرنے کے لئے اضافہ شدہ سہولیات بڑھتی ہوئی معیشت کی اہم ضرورت کو پورا کریں گی۔ اگست 2019ء سے سات دہائیوں میں حاصل کی گئی 8,394 ایم وی اے صلاحیت کے مقابلے میں کل صلاحیت میں 3,806 ایم وی اے کا اِضافہ کیا گیا ہے۔ایک آفیشل نے کہا کہ حکومت صلاحیت میں اِضافے، ترسیل اور تقسیم کے نظام کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے تمام سپلائی کی رُکاوٹوں کو دور کرنے اور برقی کاری کے اثاثوں کو مضبوط کرنے کی خاطر 12,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں اور سری نگر کے دارالخلافائی شہروںمیں زیر زمین تاروں سے بجلی کی ترسیل کی جائے گی۔واضح رہے کہ نظام کو مضبوط بنانے میں 5,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بجلی کی تقسیم میں متاثر کن نتائج برآمد ہوتے ہیں۔محکمہ بجلی کے اعدادوشمار کے مطابق 6,702 ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمروں کی تنصیب کے علاوہ33/11 کے وی کے 226 سب سٹیشن لگائے گئے یا ان میں اِضافہ کیا گیا۔اُنہوں نے کہا،’’تقسیم نیٹ ورک کو مضبوط کیا جا رہا ہے کیوں کہ گذشتہ برس 2,243 سی کے ایم ایچ ٹی لائنیں اور 5,253 سی کے ایم ایل ٹی لائنیں بچھائی گئی تھیں۔‘‘حکومت ،جموںو کشمیرمیں دہائیوں میں پہلی بار گرڈ سب سٹیشنوں کی صلاحیت میں اِضافے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جس میں 21 سب سٹیشنوں پر کام گذشتہ برس مکمل ہو ا اور دوسرے21 سب سٹیشن 31 ؍مارچ 2022 ء تک مکمل ہو گئے۔جموںوکشمیر یوٹی حکومت پروجیکٹوں کی تکمیل میں تاخیر کے ماضی کے طریقوں کو ختم کرنے کے لئے ایک مشن موڈ پر کا کر رہی ہے اور شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے ترقیاتی پروجیکٹوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے سے جواب دہ اور جواب دہ حکمرانی کے اَصول کو اَپنا یا ہے۔بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی دہائیوں سے اِلتوأ میں پڑنے والی اَپ گریڈیشن جسے یکے بعد دیگرے حکومتوں نے نظر انداز کیاتھا، مستقل طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ایک سینئر اہلکارکے مطابق موجودہ انتظامیہ تاخیر کی وراثت کو ختم کر رہی ہے اور طویل عرصے سے لٹکے ہوئے تمام منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل ہو رہے ہیں۔بجلی کو بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا رہا ہے اس لئے اسے پالیسی سازی اور معاشی اِنتظام میں ترجیح دی گئی ہے۔جے اینڈ کے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف موسم کے دوران بجلی کے بحرانوں کو حل کریں گے بلکہ جموںوکشمیر یوٹی میں نئی راہیں کھولنے کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرتے ہوئے روزگار کے بہت سے مواقع بھی پیدا کریںگے۔