omar abdullah

بینک منی لانڈرنگ کیس۔ عمر عبداللہ سے ای ڈی کا دلی میں پوچھ تاچھ

’انتقام گیری اور دھونس و دبائو کی پالیسی سے نیشنل کانفرنس کے حوصلے پست نہیں ہونگے‘

سری نگر//جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے آج جموں و کشمیر بینک منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پوچھ گچھ کی۔اس دوران نیشنل کانفرنس نے عمر عبد اللہ کو دلی طلب کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’انتقام گیری اور دھونس و دبائو کی پالیسی سے نیشنل کانفرنس کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے قبل ازیں جے اینڈ کے بینک کے سابق چیئرمین مشتاق احمد شیخ اور دیگر کے خلاف قرضوں اور سرمایہ کاری کی منظوری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا مقدمہ درج کیا تھا۔سی بی آئی کی ایف آئی آر کا نوٹس لیتے ہوئے، ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی جانچ شروع کی ہے جس دورانسی بی آئی نے 2021 میں جے اینڈ کے بینک کی اس وقت کی انتظامیہ کے خلاف 2010میں ممبئی کے باندرہ کرلا میں میسرز اکروتی گولڈ بلڈرز سے مبینہ طور پر 180کروڑ روپے کی حد سے زیادہ شرح پر جائیداد خریدنے کے لیے ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ ادھرنیشنل کانفرنس کی تمام اکائیوں نے پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ کو ای ڈی کے ذریعے طلب کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بھاجپا کی انتقام گیری پر مبنی سیاست قرار دیا ہے۔ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو ای ڈی نے آج اس بنیاد پر پیش ہونے کے لئے دہلی بلایا تھا کہ تحقیقات کے سلسلے میں ان کی حاضری ضروری ہے۔رمضان کا مقدس مہینہ ہونے اور دہلی ان کی رہائش گاہ نہ ہونے کے باوجودعمر عبداللہ نے سمن کو ملتوی یا مقام کی تبدیلی کی کوشش نہیں کی اور نوٹس کے مطابق ای ڈی کے سامنے حاضر ہوئے۔مرکزی حکومت نے تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنے کی عادت بنالی ہے اور یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ آج تک بی جے پی کی بامعنی مخالفت کرنے والی کسی بھی سیاسی جماعت کو نہیں بخشا گیاہے۔ ای ڈی ہو، سی بی آئی ہو، این آئی اے ہو یا پھر این سی بی سبھی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ایک وقت تھا جب الیکشن کا اعلان الیکشن کمیشن کے ذریعے جاتا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ انتخابات کا اعلان ای ڈی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ جہاں بھی ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں، ای ڈی جیسی ایجنسیاں حرکت میں آتی ہیں اور اُن پارٹیوں کو نشانہ بناتی ہیں جو بی جے پی کو چیلنج کرتی ہیں۔نیشنل کانفرنس نائب صدر کو جاری کیا گیا سمن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مچھلی پکڑنے کی اس مہم سے بی جے پی کو کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں ملے گا اور وقت آنے پر جموںوکشمیر کے عوام نیشنل کانفرنس کی بھر پور تائید کریںگے۔ یہ سمن 5 اگست 2019 سے بھی پہلے شروع ہونے والی کردار کشی مہم کی ایک اور کڑی ہے، جب اس وقت کے گورنر جیسے آئینی عہدے کے حامل افراد کو بی جے پی کے مخالفین پر تہمت لگانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔اگرچہ یہ مشق سیاسی نوعیت کی ہے، عمر عبداللہ پھر بھی تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں گے کیونکہ ان کی طرف سے کوئی غلط کام نہیں ہوا ہے اور وہ زیر تفتیش کسی معاملے میں ملزم نہیں ہیں۔