امشی پورہ شوپیان انکاؤنٹر،فوج نے کی کورٹ آف انکوائری مکمل

امشی پورہ شوپیان فرضی جھڑپ میں راجوری کے تین نوجوانوں کی ہلاکت کے ما بعد

فوج نے اپنے ملزم کیپٹن بھوپیندر سنگھ کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی

سرینگر / /شوپیان کے امشی پورہ علاقے میں فرضی جھڑپ کے معاملے میں فوج نے اپنے ملزم کپٹن کے خلاف کورٹ مارشل شروع کر دی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ماہ جولائی 2020میں جنوبی ضلع شوپیان کے امشی پورہ علاقے میں ایک مسلح تصادم آرائی کے دوران فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر جھڑپ سے متعلق خدشہ ظاہر ہونے کے بعد فوج نے جھڑپ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور بعد میںیہ بات سامنے آئی کہ جھڑپ میں تین جنگجو نہیں بلکہ راجوری سے تعلق رکھنے والے تین مزدور مارے گئے ہیں جن کی شناخت امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار کے بطور ہوئی ہے ۔ سوشل میڈیا پر ان ہلاکتوں پر شکوک و شبہات ظاہر ہونے کے ساتھ ہی فوج نے فوری طور پر ایک کورٹ آف انکوائری تشکیل دی جس نے اس بات پائی گئی کہ جھڑپ میں شامل فوج کے یونٹ نے افسپا کے تحت حاصل اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کر دیا ہے ۔ فوجی ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد فوج نے اعلیٰ ترین معیارات اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے اخلاقی طرز عمل کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے اس جھڑپ کی قیادت کرنے والے فوجی کیپٹن بھوپیندر سنگھ کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی۔فوج نے کورٹ آف انکوائری کے بعد شواہد کا خلاصہ پیش کیا گیاجو دسمبر 2020 کے آخری ہفتے میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے بعد، فوج نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ثبوت کی سمری ریکارڈ کرنے کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ مزید کارورائی آگے بڑھنے کیلئے قانونی مشیروں سے مشاورت کے ساتھ متعلقہ حکام اس کا جائزہ لے رہے ہیں‘‘۔حکام نے بتایا کہ کپتان کو AFSPA کے تحت حاصل اختیارات کی خلاف ورزی کرنے اور سپریم کورٹ کی طرف سے منظور شدہ فوج کے کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا ہے۔