ratio card

سینکڑوں کی تعداد میں وادی کشمیر کے صارفین راشن کارڈوںسے ہنوز محروم

سرینگر//سینکڑوں کی تعداد میں وادی کشمیر میں صا رفین راشن کارڈوں سے ہنوز محروم ،جس کے نتیجے میں ایسے صارفین کوراشن گھاٹوں سے غذائی اجناس حاصل کرنے سیل ڈیپوں سے عمارتی لکڑی بینک کھاتے کھولنے سفری دستاویزت حاصل کرنے اور سرکار کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموں سے مستفید ہونے کاموقع نہیںمل پارہاہے۔ 2018سے لیکراب تک امور صارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے راشن کارڈ نہیں بنائے گئے اور ا سکی سزا عام لوگوں کوبگھتنے پرمجبور ہونا پڑ رہاہے۔ عوام کوراحت پہنچانے کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہے تاہم زمینی سطح پرعوامی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے بڑے بابواپنے فرائض انجام نہیں دے پارہے ہے ۔اے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق جموںو کشمیر میں نفسا اسکیم لاگو ہونے کے بعد سرکار نے فیصلہ کیاتھا کہ آنے والے دو برسوں کے دوران راشن کارڈ بنانے کے بعد صارفین کوفراہم کئے جائینگے ۔وادی کشمیر میں دو سے ڈھائی لاکھ کے قریب ایسے صارفین ہیں جو راشن کارڈوں سے محروم ہے اور ایسے صارفین کوغذائی اجنا س حاصل کرنے سرکاری اسکیموں سے مستفید ہونے اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دلانے پاسپورٹ بنوانے سیل ڈیپوں سے عمارتی لکڑی حاصل کرنے بینک کھاتے کھولنے میں دشواریوں کاسامناکرنا پڑ رہاہے اور جن صارفین کے پاس راشن کار ڈکی سہولیت دستیاب نہ ہوانہیں جموںو کشمیرکاپشتنی باشندہ قرار نہیں دیاجاسکتاہے ۔جموںو کشمیر کاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد سٹیٹ سبجیکٹ کوبھی قلعدم قرار دے کرڈومیسائل سٹفکیٹ جموںو کشمیرکے پشتنی باشندے اور غیرریاستی باشندوں کوبھی فراہم کی گئی۔ 2018سے وادی کشمیرمیں امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے نئے راشن کارد بنوانے او رانہیں صارفین میں تقسیم کرانے کے بارے میں کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جوصارفین راشن کارڈوں سے محروم ہے انہیں 2020کے وسطہ میں تلقین کی گئی کہ وہ فارم بھرے اپنے آدھار نمبرات ان کے ساتھ شامل کرکے انہیں راشن کارڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائینگے یہ سلسلہ کئی مہینوں تک جاری رہا پرایسے صارفین کونہ خدا ہی ملانہ وصال صنم نہ ادھرکے رہے نہ ادھرکے کے مسداق نہ تو انہیں راشن کارڈ نصیب ہوا اور نہ ہی انہیں بنیادی شہری تصور کرکے راشن گھاٹوں سے غذائی اجناس فراہم کئے جارہے ہے ۔راشن کارڈ کی اہمیت اس وقت انتہائی لازمی ہے اور جموںو کشمیر سرکار نے 2018 کے بعد راشن کارڈ فراہم کرنے میں مسلسل غیرسنجیدگی کامظاہراہ کیاجسکے نتیجے میں ایسے صارفین طرح طرح کی پریشانیوں کاسامناکر کے صوبائی انتظامیہ کی غیرسنجیدگی کے باعث ناکردہ گناہوں کی سزا بگھتنے پرمجبور ہوگے ۔