Illegal occupation land removed in Jammu and Kashmir Govt

جموں و کشمیر میں 60 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی سے غیر قانونی قبضہ ہٹا لیا گیا:سرکار

زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن فروری میں جبکہ جمابندیوں کو اپ ڈیٹ اسی مہنے میں ہوگا مکمل

سری نگر//سرکاری ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر میں 60 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری اور گاہچرائی اراضی سے ناجائز قبضہ ہٹایا گیا اور سرکار نے مزکورہ اراضی کو اپنی تحویل میں لےلیا ہے۔کے این ایس کو ذارئع سے معلوم ہوا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر آر آر بھٹناگر نے جموں اور کشمیر میں ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک ڈیش بورڈ بنانے کی ہدایت دی جبکہ مشیر موصوف نے محکمہ مال کے افسران سے یہ بھی کہا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی سستی نہ دکھائے اور نئے سرے سے کسی قسم کی انکروچمنٹ نہ ہو اور مرتکب افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ گورنر کے مشیر کی سربراہی میں منعقدہ میٹنگ میں محکمہ ریونیو کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جس میں کمشنر سیکرٹری، ریونیو، کسٹوڈین جنرل، انسپکٹر جنرل رجسٹریشن جموں اور محکمہ کے دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ ذرائع کے مطابق جموں اور کشمیر کے ڈویڑنل کمشنرز نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں بتایا گیا کہ 371901.1 کنال (46,487.6 ایکڑ) سرکاری اراضی، 110515.8 کنال (13,814.4 ایکڑ) گاہچرائی اور 1314.11 کنال (164.2 ایکڑ) مشترکہ اراضی سے اب تک قبضہ ہٹا کر سرکار نے اپنی تحویل میں لے لی ہے۔کے این ایس کے مطابق میٹنگ کے دوران مشیربھٹناگر نے محکمہ ریونیو کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری اراضی پر سے تجاوزات کو ہٹانے کی مسلسل اور موثر نگرانی کے لیے ایک ڈیش بورڈ تشکیل دیں جبکہ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ایک ایسا طریقہ کار وضع کریں جس کے تحت کوئی بھی حاصل شدہ اراضی پر دوبارہ قبضہ نہ کیا جائے۔اس دوران ذرائع نے بتایا کہ مشیر موصوف نے اراضی کی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، غیر قانونی اندراجات کو ختم کرنے، گمشدہ ریکارڈ کو نئے سرے سے تشکیل دینے اور ریونیو کورٹس کی پیش رفت کے بارے میں افسران سے مکمل جانکاری حاصل کی جبکہ بھٹناگر نے عدالتوں میں زیر التوائ تمام مقدمات کے بارے میں ایک جامع رپورٹ طلب کی، اس کے علاوہ کیسوں کے ٹائم لائن کے بارے میں جانکاری حاصل کی کہ جو اب تک درج کئے گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران منسلک افسران نے مشیر کو بتایا کہ سرینگر اور جموں کے زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن آخری مرحلے میں ہے اور رواں سال کے فروری مہنے تک مزکورہ ریکارڈ کو مکمل کیا جائیگا جبکہ بقیہ اضلاع میں ‘جمابندیوں’ کو اپ ڈیٹ کرنے کا کام اس مہینے میں مکمل ہونے جا رہا ہے جس کے بعد اسے فوری طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ مشیر بھٹناگر نے عدالتوں میں زیر التوائ تمام مقدمات کے بارے میں ایک جامع رپورٹ طلب کی۔تمام 6,850 ریونیو دیہات کے سیٹلمنٹ اور ڈیجیٹل سروے کے بارے میں ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ سروے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور پراجیکٹ مینجمنٹ ماڈیول بھی زیر عمل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہر سب رجسٹرار کے حق میں ہفتے میں تقریباً 127سلاٹس کے اضافے کے ساتھ ہی جائیدادوں کی رجسٹریشن کا عمل تیز اور آسان ہو گیا ہے جبکہ مزکورہ دفاتر کے ذریعے جائیدادوں کی رجسٹریشن میں پچھلے سال کے مقابلے اس سال تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سال 2021 میں رجسٹریشن کی تعداد 65,626 تھی جب کہ 2020 میں صرف 39,039 رجسٹریشن ہوئی تھیں۔