سرینگر//ضلع مجسٹریٹ سری نگر محمد اعجاز اسدنے سنیچر کے روز شہر کے متعدد علاقوں کا دورہ کر کے یہاں کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ شہرکے کئی علاقوں میں سے پھرسے مثبت کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے جہاں جموں وکشمیر کے کل کیسز میں سے قریب60فیصد کیسز صرف سری نگر میں ہی درج ہو رہے ہیں‘۔۔ڈی سی سرینگر نے کہا اگر لوگوں نے احتیاط نہ کی تو انتظامیہ کو مجبوراً کچھ عل؛اقوں میں پابندیاں عائد کرنے پڑے گے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ضلع مجسٹریٹ سری نگر محمد اعجاز اسد کا ماننا ہے کہ سری نگر جموں وکشمیر میں کورونا کی تسیری لہر شروع ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں کورونا گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یونین ٹریٹری کے کل کیسز میں سے 60 فیصد کیسز سری نگر میں ہی درج ہو رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز یہاں لالچوک میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔ وہ بازاروں میں لوگوں کی طرف سے کورونا گائیڈ لائنز پر عمل در ا?مد کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس دوران ماسک کے بغیر لوگوں کا خاص طور پر موقع پر کورونا ٹیسٹ بھی کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا: ’پچھلے کچھ دنوں سے سری نگر ضلعے میں کورونا کیسز میں کافی اضافہ درج ہو رہا ہے جموں وکشمیر کے کل کیسز میں سے قریب60فیصد کیسز صرف سری نگر میں ہی درج ہو رہے ہیں‘۔اعجاز اسد نے کہا کہ سری نگر جموں وکشمیر میں کورونا کی تیسری لہر شروع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا: ’سری نگر میں کورونا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، میں ضلع مجسٹریٹ کی حیثیت سے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہا ہوں کہ جموں وکشمیر میں کورونا کی تیسری لہر کی شروعات کی وجہ سری نگر ہی بن سکتا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اگر تیسری لہر نہیں آئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے کافی احتیاط برتی ہے۔موصوف ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ سری نگر میں بعض علاقوں میں مثبت کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان علاقوں میں اسی طرح کیسز بڑھتے رہے اور لوگوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا تو ہم کڑی سے کڑی کارروائی عمل میں لا سکتے ہیں۔انہوں نے لوگوں سے کورونا کی تیسری لہر سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر من و عن عمل کرنے کی اپیل دہرائی۔اس دوران شہر سرینگر میں متعدد مقامات پر راہ چلتے راہ گیروں کے کوونا ٹسٹنگ کی گئی ہے ۔خیال رہے مرکزی وزارت صحت نے بدھ کے روز ہماچل پردیش، آندھرا پردیش اور جموں و کشمیر سے کہا کہ کووڈ19کے بڑھتے ہوئے کیسوں اور ہفتہ وار مثبت شرحوں کا جائزہ لیں، اور جانچ میں اضافہ کریں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ہماچل پردیش کے سیکریٹری صحت، آندھرا پردیش کے پرنسپل سیکریٹری صحت اور جموں و کشمیر کے صحت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، مرکزی وزارت صحت کے ایڈیشنل سیکریٹری آرتی آہوجا کو لکھے گئے خطوط میں گزشتہ ہفتے (26 اکتوبر سے) ہفتہ وار نئے کووِڈ کیسز میں اضافے پر روشنی ڈالی گئی ۔یکم نومبراور 31 اکتوبر تک پچھلے چار ہفتوں سے مثبت شرح میں اضافے کے ابتدائی آثار۔آہوجا نے خاص طور پر تہواروں کے دوران کوویڈ کے مناسب رویے کے سخت نفاذ پر بھی زور دیا۔جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے، آہوجا نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 25-31 اکتوبر کے ہفتہ وار نئے کیسز 1354 میں تقریباً 6161 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 18سے24 اکتوبر کے ہفتے میں 843 کیسز سامنے آئے ہیں۔اس دوران انتظامیہ نے اس حکم نامے کے بعد کارروائی شروع کی ہے ْ۔










