سرینگر//جنگلی جانوروں کا بستیوںکی طرف ر ُخ کرکے لوگوں پرحملوں کا سلسلہ جاری 15برسوں کے دوران جنگلی جانوروں کے حملوں میں 230افراد کی جانیں ضا ئع ہوئی2006میں 18 افراد لقمہ اجل اور 135زخمی 2021 میں 6افراد جنگلی جانوروں کے کے حملوں سے جنگلی جانوروں کے حملوں کوروکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا جارہاہے ۔اے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق وادی کشمیر میں جہاں ہرسال۔چھ ہزار کے قریب افراد آوارہ کتوں کے حملوں کانشانہ بن رہے ہیں وہی اگرجنگلی جانوروں کے حملوں کاجائزہ لیاجائے توہرسا ل بیس سے 25افراد جنگلی جانوروںکے حملوں کے باعث اپنی زندگیوں سے محروم ہوجاتے ہیں ۔جنگلی جانوروں کابستیوں کی طرف رُخ کرنے کے بارے میں طرح طرح کی دلیلیں دی جاتی ہیں تاہم یہ دلیل مضبوط اور مستحکم ہے کہ انسانوں کاجنگلی میں عمل دخل بڑھ جانے اور جنگلی جانوروں کو جنگلوں میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے جب کچھ نارہاتو وہ بستیوں کارُخ کرنے پرمجبور ہورہے ہیں ۔ماہرین کے مطابق وادی کشمیرمیں تیندوں ،رینچوں، لنگوروں ،بندروں، ہانگل اوردوسرے جانوروں کی تعداد کیاہے اس بارے میں وائلڈلائف محکمہ کی جانب سے آج تک کوئی بھی جانکاری عوام کوفراہم نہیں کی گئی تاہم جنگلی جانور کسی انسان کی جان لے لیتاہے تب لوگوں کواحتیاط برتنے کاپہاڑہ پڑھایاجاتاہے ۔وائلڈ ائف محکمہ اپنی کارکردگی میں کوئی جدیدیت لانے میں کامیاب نہیں ہوا اس کے محرکات کیاہے اس کی گہرائی میںجائے بغیر ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ وادی کشمیرمیںاس ادارے میں تعینات افسروں اور ان کے ماتحت عملے نے بھی جس بڑے پیمانے پرلاپرواہی غیرسنجیدگی کامظاہراہ کیا وہ کوئی دھکی چھپی بات نہیں ہے دور جدید میں جنگلی جانوروں کاانسانوں پرحملہ آورہوناافسوس ناک ہی نہیں المیہ سے کم نہیں ۔2006سے لیکر 2021کے اگست تک وادی کشمیرمیں جنگلی جانوروں نے 230 افراد کی جانیں لی اعدا شمار سے ظاہرہوتاہے کہ جب بھی جنگلی جانوروں نے حملے کئے محکمہ متحرک نہیں ہوا بلکہ انسانی جانوں کوکوئی اہمیت ہی نہیں دی اور سست رفتاری کے ساتھ اقدامات اٹھانے کی کوشش کی ۔2006-2007میں جنگلی جانوروں نے 18 افرادکی جانیں 135زخمی 2007-2008میں 15کی موت اور 141زخمی 2008-2009میں 22 کی موت اور 193زخمی 2011میں بیس کی موت 2012-13میں 24کی موت ہوئی 240کے قریب زخمی ہویئں اور یہ سلسلہ جاری رہایہاں تک کہ 2021کے 8ماہ کے دوران تین کمسن بچوں سمیت چھ افراد کی جانیں ضائع ہوئی اور 40سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جنگلی جانوروں نے صرف انسانوں کوحملوں کانشانہ نہیں بنایابلکہ مویشی بھی ان کے زد میں اآگئے ۔رواں برس کے دوران تیندوں ریچوں نے 250سے زیادہ بھیڑ بکریوں کواپنانیوالہ بنایاپہاڑی علاقوں میں سینکڑوں ہیکٹئراراضی پرپھیلی فصلوں کاتباہ وبربادکرکے رکھ دیااور یہ سلسلہ جاری ہے ۔وائلڈلائف محکمہ نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جانوروں کورونااب مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے جنگلی جانور بستیوں میںپلے بڑھے ہے اب جنگل انہیںراس نہیں آتے اور ماہرین کاماننا ہئے کہ جنگلوں میں رہانہیں کچھ تو یہ جنگلی جانور بستیوں کورُخ کرنے پرمجبور ہیں ایسی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے کہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرجائے جنگلی جانور ہمارے لئے ضروری ہے انہیں تحفظ کرناضروری ان سے ماحولیات پاک صاف رہتاہے لیکن ان کے حملوں سے عام لوگوں کوبچاناسرکار کی ذمہ داری ہے ۔










