سرینگر//ماہر اقتصادیات نے میوہ سیاحت گھریلوں صنعتوں اور جموںوکشمیرکے جنگلوں میں موجود جڑی بوٹیوں کوفرغ دینے اور ان صنعتوں کومضبوط مستحکم بنانے کامرکزی حکومت کومشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ چند صنعتیں پھر سے جموں وکشمیرمیں کام کرنا شروع کرے گی اور انہیں جومشکلات ہے ان کاازالہ کیاجائے تو جموں وکشمیر معاشی اور اقتصادی بحران میں نہتومبتلاہوگی اور نہ ہی یہاں روز گار کے وسائل بربادہونگے ۔سات دہائیوں سے جموں وکشمیرمیں صنعتوں کاانقلاب لانے کے دعوے تو کئے گئے اور اب بھی 50ہزار کروڑ کی روپے سرمایہ کاری کاڈھونڈوروں پیٹاجارہاہے اور جموںو کشمیرکے ان وسائل کوفروغ نہیں دیاجارہاہے جواس خطہ کے لئے آمدانی میں ریڈ کی حیثیت رکھتے ہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق جموں وکشمیر میں ماہراقتصادیات نے مرکزی حکومت کی جانب سے جموں وکشمیرمیں سرمایہ کاری کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ 50ہزار روپے کے سرمایہ کاری کاجوبلندبانگ دعوے کئے جا رہے ہے وہ زمینی سطح پرلائے جائینگے تو بہت بڑا اقتصادی اورمعاشی انقلاب آسکتاہے تاہم جموںو کشمیرکاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد یہ نعرہ بھی ان دم توڑ رہاہے ۔ماہراقتصادیات کے مطابق ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں اگرچہ جموں وکشمیراقتصادی طور پرپسماندہ ہے تاہم اگرایسے وسائل کوبروئے کار لایاجائے تو اس خطہ میں اقتصادی پسماندگی نہ صرف دورہوگی بلکہ جموںو کشمیر ملک کی دوسری ریاستوں کوقرض اور روز گار فراہم کرسکتی ہے ماہراقتصادیات کے مطابق جموں وکشمیر میں پانی کئے وسائل اسقدر موجود ہے اور اگر مرکزی حکومت اس پانی کاصحیح استعمال کر نے کے لئے جموں وکشمیرکی سرکار کوامداد فراہم کرنے تو جموں کشمیر ہرسال بیس ہزار کروڑ روپے کی بجلی ملک کی دوسری ریاستوں کوفراہم کریگی ۔ماہراقتصادیات کے مطابق این ایچ پی سی کی جانب سے جموں وکشمیرمیں پانی کے وسائل کواستعمال میں لایاگیاتا ہم جموںو کشمیرکونہ تورائلٹی اس حساب سے مل پارہی ہے اور نہ ہی بجلی کے بحران میں کمی کرنے کے لئے یہ کمپنی اپنی خدمات انجام دے رہی ہے ۔ماہر اقتصادیات نے کہاکہ جموںو کشمیرکے جنگلوں میں جس بڑے پیمانے پرجڑی بوٹیاں موجود ہے اور اگران کاصحیح استعمال کیاجائے اور انہیں ادویات بنانے کیلئے لئے کا ررو ائی کی جائے توجموں کشمیرمیں ہرسال دس ہزار لوگ روزگار حاصل کرپائینگے اور سرکاری خزانے کو چالیس سے پچاس کروڑ روپے کی آمدانی حاصل ہوگی ۔جموں وکشمیرکے خطہ چناپ کشتواڑ کے پہاڑوں میں چھپے نیلم کواگربروئے کار لانے کے لئے مرکزی حکومت سنجیدگی کامظاہرہ کرے اور اس نیلم کوبین لاقوامی بازاردلانے کے لئے ٹینڈرنگ کاسلسلہ شروع کرے تو سرکاری خزانے کو70ہزار کروڑ کے روپے کی آمدانی حاصل ہوگی۔ کشتواڑ کے پہاڑوں میں جوہیرے جواہرات چھپے ہے انہیں بروئے کار لانے کے لئے آج تک کبھی بھی اقدامات نہیں آٹھائے گے بلکہ زبانی جمع خرچ کے سواور کچھ بھی نہیں کیاگیا۔ماہراقتصادیات کے مطابق اگروادی کشمیرکی گھریلوں صنعتوں کوفروغ دیاجائے شال باقی، قالین بافی، نمدہ سازی، پیپرمعاشی ،وڈکارونگ کو بین الاقوامی بازار فراہم کیاجائے اور ان صنعتوں سے وابستہ لوگوں کوحکومت کی جانب سے امداد فراہم کی جائے تو گھریلوں صنعتوں کے ذریعے ہرسال دولاکھ لوگ نہ صرف روزگار حاصل کرینگے بلکہ ز ر مبادلہ کے طور پرجموںو کشمیرکے سرکاری خزانے کودوسوکروڑ روپے کی آمدانی حاصل ہوگی۔ ماہراقتصادیات کے مطابق دو بڑی صنعتیں میوہ اور سیاحت کی طرف اگرسنجیدگی کامظاہراہ کیاجائے جموںو کشمیرمیں نئے سیاحتی مقامات کونقشے پرلایاجائے سیاحت کوفروغ دینے کے سلسلے میں حکومت سنجیدگی کامظاہراہ کرے اور ملکی غیرملکی سیاحوں کوآزادی کے ساتھ گھومنے پھرنے کی اجازت دی جائے تو صرف وادی کشمیرمیں ایک لاکھ لوگ ہرسال روز گار سے مستفیدہونگے اور تین سو کروڑ روپے سرکاری خزانے کوآمدانی کی صورت میںحاصل ہوگی۔ ماہراقتصادیات کے مطابق میوہ صنعت جسکے ساتھ پانچ لاکھ لوگ جڑے ہوئے ہیں اگرباغ مالکان اور سیب کے تاجروں کومیعار کی کھاد اور بہترجراثیم کش ادویات فراہم کئے جائے اور کشمیرکے میوہ جات کوملک کی ہرمنڈیوں اور بیرون ممالک کی منڈیوں تک لے جانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے تو صرف سرکاری خزانے کوسات سو کروڑ کی آمدانی حاصل ہوگی اور جموں کشمیرمیںپانچ لاکھ لوگوںکوروزگارفراہم ہوگا۔ماہر اقتصادیات نے مرکزی حکومت کومشورہ دیاکہ پچھلے چھ دہائیوں سے حکومتوں نے ان صنعتوں اور ان مشوروں کونظر اندز کیایہی وجہ ہے کہ جموںو کشمیر ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ پسماندہ مرکزی زیرانتظام علاقہ بن گیاحالانکہ جموں وکشمیرمیں جتنے وسائل موجود ہے اتنے ملک کی کسی ریاست یامرکزی زیر علاقے کے پاس نہیں ہے۔










