کورونا کرفیو کے باعث جموں کشمیر کے تمام اضلاع میںمعمول کی زندگی پھر متاثر

کورونا کرفیو کے باعث جموں کشمیر کے تمام اضلاع میںمعمول کی زندگی پھر متاثر

سرینگر//وبائی بیماری کورونا وائرس کی جاری لہر کے پیش نظر سنیچروار کو بھی وادی کے بیشتر اضلاع میں کورونا لاک ڈائون سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئیں ۔خیال رہے کہ جمعہ کی شام سے ہفتہ وار کورونا کرفیو جموں کشمیر میں شروع ہو گیا ہے ۔ دوسرے روز بھی جموںکشمیر کے تمام اضلاع میں کورونا کرفیو کے نتیجے میںمعمول کی زندگی بری طرح سے متاثر رہی ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں کورنا وائرس کے کیسوں میں اگرچہ گزشتہ کئی دنو ں سے کمی ریکارڈ ہو رہی ہے جس کے نتیجے میںکورونا کرفیو میں نرمی برتی گئی تھی تاہم جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں جمعہ کی شام سے ہفتہ وار کورونا کوفیو کی شروعات ہوئی اور سنیچروار کو جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں کرونا کرفیو کی واپسی سے معمولات زندگی بُری طرح سے متاثر رہی جبکہ وادی میں حساس علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں سخت بندشیں عائد رہیں ۔ عینی شاہدین کے مطابق حکام نے عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے جاری پابندیوں میں مزید سختی لائی ہے۔اس غرض کیلئے پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی اضافی نفری کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جنہوں نے سڑکوں پر خار دار دار کی رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا جبکہ حساس مقامات پر سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے اور کسی کو بھی آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی ۔ ادھر عالمی وبائی کوروناوائرس کی دوسری لہر کے چلتے شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں سخت ترین اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ۔سرینگر کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ لالچوک اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کو بھی سیل کردیا گیا ہے اور لوگوں کی نقل و حمل پر مکمل روک لگانے کیلئے فورسز اور پولیس نے جگہ جگہ رُکاوٹیں کھڑی کررکھی ہے ۔ کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اُٹھائے گئے اقدمات سے اگرچہ عام لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم لوگوںکا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ضروری ہے اورلوگ سرکارکے اس فیصلے پر اپنا بھر پور تعاون دینے کو تیار ہے ۔کورونا کرفیو کے چلتے لالچوک اور دیگر گردونواح کے علاقوںمیں صبح سے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بند رہی جبکہ تمام تجارتی مراکز اور دکانیں صبح سے ہی مقفل رہیں اس کے ساتھ ساتھ رستوران ، ہوٹل اورگیسٹ ہاو س بھی تالہ بند رہے ۔ سنیچروار کی صبح سے ہی حساس علاقوں میںبند شوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا تھا اور غیر ضروری طور پر کسی کو بھی چلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی بلکہ صرف لازمی اور ایمرجنسی خدمات کو پابندیوں سے باہر رکھا گیا تھا ۔ کورونا کرفیو کی وجہ سے سڑکوں اور کاروباری اداروں کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔ادھروسطی کشمیر کے بڈگام قصبہ میں بھی لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے صبح ہی سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات کئے گئے جو ملحقہ علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کو قصبے میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ادھر جنوبی کشمیر سے بھی نمائندوںنے اطلاع دی ہے کہ کورونا کرفیو کے باعث لوگ گھروں میںہی محصور رہے جبکہ سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ گھروںسے غیر ضروری طور پر کسی کو باہر آنے نہیں دیا گیا ۔