بشناہ، فروری28//اپنی پارٹی نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ او بی سی طبقہ بشمول سبھی دستکاروں کیلئے 27فیصد تک ریزرویشن کوٹہ بڑھایاجائے۔ یہ مانگ بشناہ میں یک روزہ او بی سی کنونشن سے خطاب کے دوران پارٹی سنیئر نائب صدر غلام حسن میر نے اُجاگر کی۔ اِس کنونشن کا اہتمام او بی سی ریاستی کارڈی نیٹر مدن لال چلوترہ نے کیاتھا۔ غلام حسن میر نے کہاکہ او بی سی جس میں جموں وکشمیر کے دونوں صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہر طرح کے دستکار شامل ہوں،کے لئے ریزرویشن کوٹہ بڑھایاجائے تاکہ اُن کی سماجی ومعاشی ترقی ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ او بی سی پر کمیشن کی رپورٹ بھی پیش نہ کی گئی تاکہ ملکی سطح پر بشمول کشمیر ریزرویشن کوٹہ میں توسیع ہو۔انہوں نے کہاکہ لوگ انتظامیہ کے کام کاج سے مطمئن نہیں اور بیروکریٹک رویہ نے لوگوں کو سخت مایوس کیا ہے کیونکہ اُن کے جائز مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ جلد سے جلد اسمبلی انتخابات کرائے جائیں تاکہ لوگ بیروکریسی کے چنگل سے نجات پاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ منتخبہ حکومت ہی عوامی مسائل حل کرسکتی ہے اور جموں وکشمیر میں لوگوں کے دلوں کو بھی جیت سکتی ہے۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوئے اضافہ پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جھوٹے اور کھوکھلے وعدے کر کے اوبی سی طبقہ کے لوگوں کو ووٹ بینک کے طور استعمال کیا۔ سابقہ وزیر اور صوبائی صدر منجیت سنگھ نے کہاکہ ملک کے دیگر حصوں میں او بی سی طبقہ کو 27فیصد ریزرویشن مل رہی ہے جبکہ جموں وکشمیر میں صرف 4فیصداور اِس میں بھی حالیہ دنوں دو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مانگ کی کہ یہاں پر بھی ملکی سطح کی طرز پر ریزرویشن دی جائے۔ سابقہ ایم ایل اے اور سنیئرلیڈر کمل اروڑہ اور مدن لال چلوترہ نے بھی او بی سی طبقہ کو درپیش مشکلات کو اُجاگر کیا۔ اس موقع پر سابقہ ایم ایل اے فقیر ناتھ، ریاستی کارڈی نیٹر ایس سی بودھ راج بھگت، صوبائی صدر یوتھ ونگ گورو کپور، رنکو اروڑہ، اعجاز کاظمی، شنکر سنگھ چب، بشنا داس، مہیشور، ست پال ورما، بھارت بھوشن، سورج پرکاش، اجے رینہ، اشرف چوہدری، بابو رام بھگت، پشپا راج، دلبار سنگھ وغیرہ موجود تھے۔










