ماہ اکتوبر میں کشمیر میں معمول کے قریب بارش، جموں میں زائد جبکہ لداخ میں شدید کمی
سرینگر / این این بی // وادی کشمیر میںغیر یقینی موسمی صورتحال کے چلتے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ماہ اکتوبر کے دوران کشمیر صوبے میں مجموعی طور پر بارش معمول کے قریب رہی تاہم وادی کے مختلف اضلاع میں بارش کی مقدار میں نمایاں تفاوت دیکھنے کو ملا۔ جنوبی کشمیر کے بعض اضلاع میں بارش کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی تاہم شمالی اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوئی۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وادی کشمیر میں موسمی تبدیلی کے بیچ ماہ اکتوبر کے دوران کشمیر میں مجموعی طور پر بارش معمول کے قریب رہی، تاہم مختلف اضلاع میں بارش کی مقدار میں نمایاں تفاوت دیکھنے کو ملا۔ جنوبی کشمیر کے بعض اضلاع میں بارش کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ شمالی اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوئی۔ اس کے برعکس جموں ڈویڑن میں اکتوبر کے دوران معمول سے تقریباً دوگنی بارش ہوئی، جبکہ لداخ خطے میں بارش کی شدید قلت برقرار رہی۔محکمہ موسمیات کے ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق، کشمیر صوبے میں اکتوبر کے دوران مجموعی طور پر 32.13ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کے مطابق اس مدت میں 30.38ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔ اس طرح بارش میں 5.76فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور صوبے مجموعی طور پر معمول کے زمرے میں رہا۔تاہم وادی کے اضلاع کی صورتحال ایک جیسی نہیں رہی۔ شوپیان میں سب سے زیادہ بارش کی کمی ریکارڈ ہوئی، جہاں صرف 8.8ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ معمول 30.4ملی میٹر تھا۔ اس طرح ضلع میں 71فیصد کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے باعث شوپیاں کو شدید کمی والے زمرے میں رکھا گیا۔اعدادو شمار کے مطابق کولگام میں 14.9ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی جبکہ معمول 35.5ملی میٹرتھا، جس کے نتیجے میں 58فیصد کمی ہوئی۔ اننت ناگ میں 23.3ملی میٹربارش ہوئی، جبکہ معمول 30.7ملی میٹرتھا، یعنی ضلع میں 24فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ دونوں اضلاع کو بارش کی کمی والے زمرے میں رکھا گیا۔اسی طرح سے بڈگام میں اکتوبر کے دوران 19.3ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ معمول 22.4ملی میٹر تھا، جو 14فیصد کمی بنتی ہے، تاہم یہ ضلع مجموعی طور پر معمول کے زمرے میں رہا۔دوسری جانب پلوامہ میں 24.8ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ معمول 22.3ملی میٹر تھا، یعنی بارش معمول سے 11فیصد زیادہ رہی۔ سرینگر میں 31.5ملی میٹربارش ہوئی جبکہ معمول 27ملی میٹر تھا، جو 17فیصد اضافی بارش بنتی ہے۔ دونوں اضلاع کو بھی معمول کے زمرے میں رکھا گیا۔شمالی اور وسطی کشمیر کے کئی اضلاع میں اکتوبر کے دوران معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوئی۔ کپواڑہ میں 73.5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ معمول 40.7ملی میٹر تھا، یعنی ضلع میں 81فیصد اضافی بارش ہوئی۔ اس بنا پر کپواڑہ کو شدید اضافی بارش والے زمرے میں رکھا گیا۔جبکہ گاندربل میں 42.3ملی میٹر بارش ،بانڈی پورہ میں 37.6ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی اور دونوں اضلاع اضافی بارش والے زمرے میں رہے۔محکمہ موسمیات کے ایک افسر کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بارش پوری وادی میں یکساں نہیں ہوئی بلکہ کشمیر وادی کے مختلف حصوں، اور کسی حد تک جموں ڈویڑن میں بھی بارش کی مقدار میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔اسی طرح سے جموں ڈویڑن میں اکتوبر کے دوران بارش کی صورتحال کشمیر کے مقابلے میں بالکل مختلف رہی۔ ڈویژن میں مجموعی طور پر 59.55ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ معمول 30.83ملی میٹر تھا۔ اس طرح جموں صوبے میں 93.51فیصد اضافی بارش ریکارڈ ہوئی، جس کے باعث اسے شدید اضافی بارش والے زمرے میں رکھا گیا۔جموں ڈویڑن کے ان چھ اضلاع جموں، کٹھوعہ، پونچھ، ریاسی، راجوری اور سانبہ کو شدید اضافی بارش والے زمرے میں رکھا گیا۔وہی لداخ میں اکتوبر کے دوران بارش کی صورتحال انتہائی کمزور رہی۔لیہہ میں صرف 1.3ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ معمول 3.4ملی میٹر تھا، جس کے نتیجے میں 65فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ لیہہ کو شدید بارش کی کمی والے زمرے میں رکھا گیا۔آئی ایم ڈی کے وسیع تر بارش کے جائزے کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ کے تینوں خطوں میں مجموعی طور پر بارش کی کمی ریکارڈ ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں 33.4 فیصد، جموں میں 21.4 فیصد اور لداخ میں 97.8 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اکتوبر کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ مجموعی اوسط کسی خطے کے اندر بارش کی حقیقی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، کیونکہ ایک ہی ڈویژن کے مختلف اضلاع میں بارش کی مقدار میں نمایاں فرق پایا گیا۔ کشمیر میں جہاں جنوبی اضلاع بارش کی کمی سے دوچار رہے، وہیں شمالی اور وسطی کشمیر کے بعض علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوئی، جبکہ جموں میں مجموعی طور پر نمایاں اضافی بارش اور لداخ میں شدید خشک صورتحال ریکارڈ کی گئی۔










