منشیات اورموبائل کے غلط استعمال سے نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے/ڈاکٹر فاروق
سرینگر / این این بی // ایک بہتر اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کے لئے دینی تعلیمات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کا احترام، انسانیت، ہمدردی، بھائی چارے اور غریب پروری کے جذبے کو بھی فروغ دینا ناگزیر ہے کی بات کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ یہی اقدار انسانی وقار، عزت اور معاشرتی ہم آہنگی کی بنیاد ہیں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں اور بدعات، بالخصوص منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منشیات کے خلاف جاری جنگ میں سماج کا ہر طبقہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔انہوں نے نوجوان نسل پر موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے جا اور غیر ذمہ دارانہ استعمال کے منفی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس رجحان کے باعث نوجوانوں کا قیمتی وقت اور مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور سماج کے ذمہ دار افراد نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کریں۔تقریب میں موجودہ پارٹی کے ممبرانِ اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عوام کی خدمت کا موقع عطا کیا ہے، جو ایک بڑی ذمہ داری اور امانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا اولین فرض ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل و مشکلات کو سنجیدگی سے سنیں اور ان کے ازالے کے لئے بھرپور کوششیں کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبرانِ اسمبلی اپنی جماعت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے تشخص، شناخت اور وحدت کے تحفظ کے لئے پارٹی کی جدوجہد کو مزید مستحکم بنائیں۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کا فقدان عام شہریوں کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات دنیا بھر کے عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے سفر اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے لئے آنے اور جانے والے زائرین کو جہاں پہلے تقریباً چھ گھنٹے کی پرواز درکار ہوتی تھی، اب انہیں مختلف سفری مشکلات کے باعث 24 گھنٹے تک کا وقت لگ رہا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ عام اور متوسط طبقے کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں امن، اتحاد، باہمی افہام و تفہیم اور انسانیت کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔










