کہا نیا فریم ورک معروف اداروں کو راغب کرے گا ، مقامی نوجوانوں کیلئے مواقع بڑھائے گا
جموں//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے وزیر تعلیم تعلیم شمیم فردوس کو جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹیز رولز 2026 کی نوٹیفکیشن پر مبارکباد دی ہے اور اسے حکومت کی معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے اور خطے کے تعلیمی ماحول کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے قواعد جموں و کشمیر میں پرائیویٹ یونیورسٹیز کے قیام اور آپریشن کیلئے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک قائم کرتے ہیں ، جو معروف قومی اور بین الاقوامی اداروں کیلئے جموں و کشمیر میں اپنے کیمپس قائم کرنے کا ساز گار ماحول پیدا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ منظوری کا آسان طریقہ کار جس میں 30 دن کے اندر ابتدائی جانچ کی شق شامل ہے ، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کیلئے ایک زیادہ موثر اور شفاف عمل کو آسان بنائے گا ۔ اسی کے ساتھ یہ فریم ورک احتساب ، معیار کی یقین دہانی اور مقررہ تعلیمی معیارات کی پابندی کو یقینی بنانے کیلئے موثر ضابطہ جاتی نگرانی بھی فراہم کرتا ہے ۔ مقامی مفادات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کے داخلوں کے ساتھ ساتھ تدریسی اور غیر تدریسی عہدوں میں جموں و کشمیر کے مقامی باشندوں کیلئے کم از کم 25 فیصد ریزرویشن کی شق اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے گی کہ اداروں کی توسیع کے فوائد مقامی نوجوانوں کیلئے بامعنی تعلیمی اور روز گار کے مواقع میں تبدیل ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ قواعد میں داخلوں ، فیس کے ڈھانچے اور تعلیمی معیار کی نگرانی کیلئے ایک مخصوص ریگولیٹری میکانزم بھی شامل ہے جس کی خلاف ورزیوں پر سخت سزائیںمقرر ہیں ، جن میں داخلوں میں بے ضابطگیاں ، اضافی فیس وصولی ، غیر معتبر ڈگریاں جاری کرنا ، فیکلٹی کی تعداد اور قابلیت میں کمی اور ناکافی انفراسٹرکچر شامل ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیا فریم ورک سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضی ( ایس ٹی ای ایم ) ، طب ، قانون ، بزنس اسٹڈیز اور لبرل آرٹس سمیت وسیع پیمانے کے مضامین میں اداروں کے قیام کے مواقع کھولے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے طلبہ کیلئے تعلیمی اختیارات وسیع ہوں گے ، بین الضابطہ تعلیم کو فروغ ملے گا اور جموں و کشمیر میں تدریس ، تحقیق اور اختراع کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے ۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ معتبر اداروں کے آنے سے مقامی طلبہ کو گھر کے قریب معیاری ، عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا جبکہ معروف اساتذہ ، محققین اور اسکالرز کو بھی متوجہ کیا جا سکے گا ، اس کے علاوہ ملک بھر اور بیرون ملک سے تحقیقی تعاون اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کی حوصلہ افزائی ہو گی ۔ انہوں نے صحت اور طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو کے تعاون کو کو بھی تسلیم کیا جو اس وقت تعلیم کی وزارت سنبھالے ہوئے تھیں جب جموں و کشمیر نجی یونیورسٹیز بل جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منظور ہوا تھا ، اور قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں ان کے کردار کی تعریف کی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قواعد کی نوٹیفکیشن جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کی ترقی اور جدید کاری کیلئے قانون سازی کی پیش قدمی کو ایک موثر ادارہ جاتی فریم ورک میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔










