وائلڈ لائف ہماری شناخت ہے ، اس کا تحفظ میری ترجیح ہے ۔ الطاف وانی

وائلڈ لائف ہماری شناخت ہے ، اس کا تحفظ میری ترجیح ہے ۔ الطاف وانی

وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور جے کے ایف آر آئی کا جائیزہ لیا

جموں//وزیر برائے جنگلات و ماحولیات ، دیہی ترقی اور پنچائتی راج الطاف احمد وانی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ایک منفرد قدرتی ورثہ عطا ہوا ہے اور اس کا تحفظ محض محکمانہ فریضہ نہیں بلکہ حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ وزیر موصوف وائلڈ لائف پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور جموں و کشمیر فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( جے کے ایف آر آئی ) کے تفصیلی جائیزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جو میٹنگ ہال پی سی سی ایف /ایچ او ایف ایف آفس جموں میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات ، پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس اینڈ ہیڈ آف فاریسٹ فورس جموں و کشمیر ، چئیر مین پی سی سی ، چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں و کشمیر اور دائریکٹر جے کے ایف آر آئی ، ریجنل وائلڈ لائف وارڈنز ، ڈی ایف اوز اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ محکمہ کے کام کا جائیزہ لیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر دنیا کی کچھ نایاب ترین انواع کا مسکن ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہنگل دنیا میں کہیں اور نہیں پایا جاتا ۔ یہ ہمارا فخر ہے ، ہماری شناخت ہے ۔ ہم اسے کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتے اور محکمہ کو ہنگل کے تحفظ کو مشن موڈ پر لینے کی ہدایت دی جس میں سائنسی نگرانی اور رہائش گاہ کی بہتری شامل ہو ۔ وزیر نے انسانی ۔ جنگلی حیات کے تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایک انسانی جان کا جانا خاندان کیلئے ایک المیہ ہے ۔ ہمیں سب سے پہلے انسانی جان کی حفاظت کرنی ہے ، ساتھ ہی جنگلی حیات کی بھی حفاظت کرنی ہے ۔ اگر ہم وقت پر ردِ عمل دیں تو دونون ممکن ہیں ۔ ‘‘وزیر نے محکمے کو یہ بھی ہدایت دی کہ ماہرین کے مشورے سے جموں و کشمیر کی مخصوص جنگلی حیات ، نباتات و حیوانات پر ایک مجموعہ تیار کیا جائے تا کہ جموں و کشمیر کی بھر پور حیاتیاتی تنوع کو مناسب طریقے سے دستاویزی شکل دی جائے اور اسے محققین ، طلبہ اور عوام کیلئے دستیاب بنایا جائے ۔ وزیر موصوف نے جے کے فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( جے کے ایف آر آئی ) کے کام کا جائیزہ لیتے ہوئے کہا کہ سائنس جنگلات کے تحفظ کی بنیاد ہے اورتحقیق صرف فائلوں اور لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہنی چاہئیے بلکہ اسے جنگل ، کسان اور عام آدمی تک پہنچنا چاہئیے ۔ انہوں نے جے کے ایف آر آئی کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ جنگلات ، کسانوں اور صنعت کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تحقیقی نتائج مقامی لوگوں کیلئے آمدنی اور جنگلات کے بہتر تحفظ میں تبدیل ہوں ۔ شرکتی ترقی پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جہاں کہیں بھی کسی خاص ضلع میں کام کرنا ہو ، اس ضلع کے متعلقہ ایم ایل اے کو ساتھ لیا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے زمینی حقائق سے واقف ہوتے ہیں اور ان کی شمولیت شفافیت اور کاموں کے بہتر نفاذ کو یقینی بنائے گی ۔