نئی دہلی/یو این آئی// برکس ممالک نے سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کے معاملہ میں دوہرے معیار کو مسترد کیا اور عالمی تنازعات کا بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعہ پُرامن حل نکالنے کی حمایت کی ہے ۔ برکس ممالک کے دو روزہ 12ویں پارلیمانی فورم کے منگل کے روز یہاں اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرکے عائد کی جانے والی یک طرفہ اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ اعلامیہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے محفوظ، جامع اور مساوی رسائی پر مبنی استعمال کے ساتھ عالمی نظامِ حکمرانی میں ترقی پذیر ممالک کی زیادہ شرکت پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ ہندوستان کی میزبانی میں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے سمودھان سدن کے مرکزی ہال میں منعقدہ اس فورم کا موضوع عوام پر مرکوز ترقی کے لیے پارلیمانوں کو فروغ دینا تھا۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، روس، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کے پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔ اعلامیہ میں موجودہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے نظام میں اصلاحات کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ اس مقصد کے لیے کثیر فریقی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اس میں سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، مساوی، جمہوری، نمائندہ، مؤثر اور باصلاحیت بنانے پر زور دیا گیا ہے ، تاکہ وہ موجودہ عالمی حالات اور بین الاقوامی برادری کی ضروریات کے مطابق کام کر سکے ۔ برکس ممالک نے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کے ساتھ عالمی جنوب کی آواز کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پارلیمانی فورموں، خاص طور پر بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) میں برکس ممالک کے درمیان تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس سلسلے میں آئی پی یو کے اندر برکس پلس جغرافیائی سیاسی گروپ تشکیل دینے کی روس کی تجویز پر غور کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ اعلامہ میں اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں، بین الاقوامی قانون، ممالک کی خودمختار مساوات، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کو عالمی امن، استحکام اور ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کو مجرمانہ اور کسی بھی صورت میں ناقابل جواز قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی ہے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے ۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد اور ان کی حمایت کرنے والوں کو متعلقہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے ۔ اعلامیہ میں گزشتہ سال اپریل میں جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے ۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے ۔ دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘کی پالیسی اپنانے اور اس سے نمٹنے کے معاملہ میں دوہرے معیار کو مسترد کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔










