دہشت گرد نیٹ ورکس کو خطے میں پناہ گاہیں نہ ملنے دی جائیں/وزیرداخلہ امیت شاہ

دہشت گرد نیٹ ورکس کو خطے میں پناہ گاہیں نہ ملنے دی جائیں/وزیرداخلہ امیت شاہ

بِمسٹیک ممالک سے دہشت گردی، منشیات اسمگلنگ اور مالی معاونت کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اپیل

سرینگر// یو این ایس / مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بِمسٹیک (BIMSTEC) ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو خطے میں پناہ گاہیں قائم کرنے کا موقع نہ ملے۔منگل کو نئی دہلی میں بِمسٹیک ممالک کے وزرائے داخلہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کی بنیاد اس اعتماد پر قائم ہے کہ ہر ملک کے حفاظتی انتظامات دوسرے رکن ممالک کی سلامتی کو بھی مضبوط بنائیں۔امیت شاہ نے کہا کہ تمام رکن ممالک کو مل کر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خطے میں پناہ حاصل نہ کرسکیں، اپنے ٹھکانے اور تربیتی مراکز قائم نہ کریں، وسائل جمع نہ کریں اور دوسرے رکن ممالک کے خلاف سرگرمیاں انجام نہ دیں۔انہوں نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قانونی معاونت اور ملزمان کی حوالگی کے عمل میں تعاون بڑھانے کی اپیل بھی کی۔ ان کے مطابق یہ تعاون متعلقہ ممالک کے قومی قوانین اور باہمی معاہدوں کے تحت ہونا چاہیے۔وزیر داخلہ نے انسداد دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق قابلِ عمل خفیہ معلومات کا تبادلہ موجودہ رابطہ اداروں کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو بھی ضروری قرار دیا۔امیت شاہ نے منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پر قابو پانے کے لیے کسی ایک ملک کی کوششیں کافی نہیں ہیں، بلکہ پورے خطے کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم منظم جرائم پیشہ گروہوں کو مالی طاقت فراہم کرتی ہے اور اس رقم کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ان کے مطابق منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کا غیر قانونی رخ پر منتقل ہونا اور ڈارک ویب کے ذریعے مالی لین دین اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔امیت شاہ نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے معاونین، جرائم پیشہ نیٹ ورکس، مالی ذرائع اور سرحد پار سرگرمیوں سے متعلق تصدیق شدہ اور قابلِ عمل معلومات کا بروقت تبادلہ خطے کی مجموعی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔بِمسٹیک خلیج بنگال کے اطراف اور اس کے قریبی خطے کے سات ممالک پر مشتمل علاقائی تنظیم ہے۔ اس میں بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، میانمار، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔اس تنظیم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، تکنیکی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ امیت شاہ نے اجلاس میں اس تعاون کو سلامتی کے شعبے تک وسعت دینے اور دہشت گردی سمیت مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔