یو پی آئی ادائیگیوں پر اضافی فیس کا نفاذ

یو پی آئی ادائیگیوں پر اضافی فیس کا نفاذ

دیوالی کے بعد تک ملتوی،این پی سی آئی کا حکمنامہ جاری

سرینگر// ٹی ای این / ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام یو پی آئی (UPI) کے ذریعے تاجروں کو کی جانے والی بعض ادائیگیوں پر اضافی فیس عائد کرنے کا مجوزہ فیصلہ دیوالی کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی جانب سے 15 اکتوبر سے نافذ ہونے والا فریم ورک مقررہ تاریخ پر لاگو نہیں ہو سکے گا۔ایک رپورٹ کے مطابق، این پی سی آئی نے 15 ستمبر کو اس فریم ورک کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت مخصوص شرائط پر پورا اترنے والی ان ادائیگیوں پر 0.4 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز تھی جو بینک اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی کے ذریعے تاجروں کو کی جاتی ہیں اور جن کی مالیت 2,000 روپے سے زیادہ ہو۔ اس فیس کی زیادہ سے زیادہ حد فی لین دین 300 روپے مقرر کی گئی تھی۔تاجروں کی بعض یو پی آئی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد فیس کا نفاذ دیوالی کے بعد ہوگا۔، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے یو پی آئی کے ذریعے تاجروں کو کی جانے والی بعض ادائیگیوں پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کے نفاذ کو دیوالی کے بعد تک ملتوی کر دیا ہے۔ یہ فیس 15 اکتوبر سے نافذ ہونے والی تھی، تاہم اب اس کے نفاذ کی نئی تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی۔این پی سی آئی نے 15 ستمبر کو اس سلسلے میں ایک فریم ورک کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت بینک اکاؤنٹ سے رقم ادا کرکے تاجروں کو کی جانے والی مخصوص یو پی آئی ادائیگیوں پر 2,000 روپے سے زیادہ کی رقم کے لیے 0.4 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز تھی۔ فی لین دین اس فیس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے مقرر کی گئی تھی۔این پی سی آئی کے مطابق، یو پی آئی اور خدمات سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی نے 13 اکتوبر کو منعقدہ اجلاس میں تہواروں کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس کے نفاذ کو دیوالی کے بعد تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے تاجروں، بینکوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو نئے نظام کے لیے تیاری کا مزید وقت ملے گا۔فیس کے نفاذ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مختلف تاجر تنظیموں نے تہواروں کے موسم میں اس کے نفاذ پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن اور آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرز فیڈریشن نے فیس کے نفاذ میں تاخیر، چھوٹے تاجروں کو رعایت دینے اور تاجروں کے درمیان ہونے والی ادائیگیوں کو فیس سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔تہواروں کے دوران بازاروں میں خریداری اور ڈیجیٹل لین دین میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے میں تاجر تنظیموں کو خدشہ تھا کہ نئی فیس سے کاروباری اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ فیس کو ملتوی کرنے سے تاجروں کو عارضی راحت ملے گی، جبکہ ادائیگیوں سے متعلق کمپنیوں کو اپنے نظام میں ضروری تبدیلیاں کرنے کا موقع بھی حاصل ہوگا۔مجوزہ فریم ورک کے مطابق، دو ہزار روپے تک کی یو پی آئی ادائیگیاں اور ایک شخص سے دوسرے شخص کو رقم منتقل کرنے کے لین دین فیس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ اس کے علاوہ مقررہ شرائط پر پورا اترنے والے چھوٹے تاجروں کو بھی رعایت حاصل ہوگی۔ ایم ڈی آر وہ فیس ہے جو ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے کے عوض تاجر کی جانب سے بینک یا ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کو ادا کی جاتی ہے۔این پی سی آئی کے مجوزہ نظام کے تحت تاجر یہ فیس صارفین سے وصول نہیں کر سکیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ مجوزہ فیس کا براہ راست بوجھ صارفین پر ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم، اس نظام کے حتمی نفاذ کی تاریخ اور متعلقہ تفصیلات کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔واضح رہے کہ بینک اکاؤنٹ سے کی جانے والی یو پی آئی ادائیگیوں پر جنوری 2020 سے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ صفر تھا۔ مجوزہ تبدیلی کے تحت صرف مخصوص تجارتی لین دین پر فیس دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ عام افراد کے درمیان رقم کی منتقلی بدستور مفت رکھنے کی تجویز ہے۔