ہمالیائی ٹراؤٹ مچھلی کی پیکنگ اور فروخت جلد شروع ہوگی
سرینگر// ٹی ای این / خیبر ایکوا کلچر نے گاندربل کے کنگن علاقے میں چک اکھل میں واقع اپنے مرکز کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) سے لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ اس منظوری کے بعد کمپنی ہمالیائی ٹراؤٹ مچھلی کی پیکنگ شدہ مصنوعات بازار میں متعارف کرانے اور سری نگر میں اپنا پہلا برانڈڈ ریٹیل اسٹور کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔کمپنی کے مطابق، وہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش اور پروسیسنگ کا کام انجام دے رہی ہے۔ اب اس کا منصوبہ خوردہ فروخت، تقسیم اور ہوٹلوں، ریستورانوں اور کیٹرنگ کے شعبے تک اپنی مصنوعات پہنچانے کا ہے۔ایف ایس ایس اے آئی لائسنس کے تحت مچھلی اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی تیاری، تجارت اور خوردہ فروخت کی اجازت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے کمپنی کو مچھلی کی پروسیسنگ، پیکنگ، ذخیرہ کرنے اور تقسیم کے کام کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔خیبر ایکوا کلچر کے ڈائریکٹر یونس ترمبو نے کہا کہ لائسنس کا حصول کمپنی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے فارم میں تیار ہونے والی ٹراؤٹ مچھلی کو زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی مچھلی کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے موڈیفائیڈ ایٹماسفیر پیکیجنگ (ایم اے پی) ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس طریقے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن کی مخصوص مقدار کے ذریعے پیکنگ کے اندر ماحول کو کنٹرول کیا جاتا ہے، جس سے مصنوعات کی تازگی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ابتدائی مرحلے میں بغیر کانٹوں کے، جلد سمیت مچھلی کے حصے، سپریم فلیٹس اور ٹراؤٹ اسٹیکس تازہ، ٹھنڈی اور منجمد حالت میں دستیاب ہوں گے۔ بعد کے مراحل میں کمپنی تیار کرنے کے لیے آسان کَری کٹس اور سوشی و ساشیمی جیسی مصنوعات بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ہوٹلوں، ریستورانوں اور کیٹرنگ کے کاروبار کے لیے بڑے پیک بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ان میں 3.2 کلوگرام کا سپریم فلیٹس پیک شامل ہے، جس میں مچھلی کے چار ٹکڑے ہوں گے۔کمپنی کے مطابق، مقررہ درجہ حرارت اور ذخیرہ کرنے کی ہدایات پر عمل کرنے کی صورت میں ٹھنڈی حالت میں رکھی گئی مصنوعات پانچ سے آٹھ دن تک استعمال کے قابل رہیں گی، جبکہ منجمد مصنوعات کو 12 ماہ تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔کمپنی کے پروسیسنگ مرکز میں فی الحال روزانہ 10 ٹن تک مچھلی کی پروسیسنگ کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ سالانہ پیداوار کی گنجائش 1,200 میٹرک ٹن ہے۔ کمپنی مستقبل میں اپنی سالانہ پیداواری صلاحیت بڑھا کر 7,000 میٹرک ٹن تک پہنچانا چاہتی ہے۔ایف ایس ایس اے آئی سے منظوری ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب کمپنی سری نگر کے کرن نگر علاقے میں اپنا پہلا برانڈڈ ریٹیل اسٹور کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اسٹور میں زندہ ٹراؤٹ، تازہ مچھلی اور ٹھنڈی و منجمد حالت میں پیک شدہ مصنوعات فروخت کی جائیں گی۔یونس ترمبو کے مطابق، صارفین اسٹور سے زندہ ٹراؤٹ مچھلی کا انتخاب بھی کر سکیں گے، جسے ان کی ضرورت کے مطابق صاف کرکے، کاٹ کر اور پیک کرکے فراہم کیا جائے گا۔خیبر ایکوا کلچر جموں و کشمیر کے علاوہ دہلی اور قومی دارالحکومت خطے (این سی آر) سمیت شمالی ہندوستان کی دیگر منڈیوں تک اپنی مصنوعات پہنچانے کے لیے تقسیم کا نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید ریٹیل اسٹورز، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے علاوہ براہ راست صارفین کو آن لائن فروخت کے ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔کمپنی بین الاقوامی منڈیوں میں داخل ہونے کے لیے بیسٹ ایکوا کلچر پریکٹسز (بی اے پی) سرٹیفکیشن حاصل کرنے کی سمت میں بھی کام کر رہی ہے۔2022 میں قائم ہونے والی خیبر ایکوا کلچر، جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے خیبر گروپ کا حصہ ہے۔ یہ گروپ مہمان نوازی، سیمنٹ، رئیل اسٹیٹ، صحت اور آبی زراعت سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہے۔










