’مجھے بیڈ روم سے گھسیٹ کر لے گئے، چپل تک نہیں پہننے دی‘، دھرو راٹھی کا الزام، مودی حکومت پر ڈکٹیٹرشپ کا دعویٰ

’مجھے بیڈ روم سے گھسیٹ کر لے گئے، چپل تک نہیں پہننے دی‘، دھرو راٹھی کا الزام، مودی حکومت پر ڈکٹیٹرشپ کا دعویٰ

معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی نے پولیس پر اغوا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے اتوار (11 اکتوبر) کو دعویٰ کیا کہ 10 اکتوبر کو دہلی میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل سادہ کپڑوں میں آئے لوگوں نے انہیں ان کے گھر سے ’اغوا‘ کر لیا اور مختلف پولیس تھانوں میں لے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں گھر سے گھسیٹ کر لے جایا گیا اور چپل تک پہننے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ساتھ ہی ان کے فون بھی چھین لیے گئے۔
دھرو راٹھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً 7 بجے، جب وہ سو رہے تھے، سادہ کپڑوں میں تقریباً 20 لوگ ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان لوگوں نے انہیں یہ پوچھنے کا موقع بھی نہیں دیا کہ وہ کون ہیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ راٹھی نے کہا کہ انہیں مختلف تھانوں میں لے جایا گیا اور تقریباً 22 سے 23 گھنٹے تک نہ تو انہیں اپنے وکیل سے رابطہ کرنے دیا گیا اور نہ ہی فون استعمال کرنے دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے بیڈ روم سے باہر لے جاتے وقت چوٹیں آئیں۔دھرو راٹھی نے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے اور گھر سے لے جانے کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے حراست میں نہیں لیا گیا تھا، میرا اغوا کیا گیا تھا۔‘‘ اپنی شہریت سے متعلق افواہوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راٹھی نے ویڈیو میں اپنا پاسپورٹ دکھایا اور کہا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں۔ انہوں نے ان دعووں کو بھی مسترد کیا کہ ان کا احتجاج میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں تھا۔ واضح رہے کہ دھرو راٹھی کو ہفتہ کو جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاج سے قبل گروگرام میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے اٹھنے والے خدشات کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے بلایا گیا تھا۔
دھرو راٹھی نے مزید کہا کہ ’’کیا آپ نے کسی جمہوری ملک میں ایسا سنا ہے کہ کسی نے سچ کے لیے آواز اٹھائی ہو، ملک کے لیے آواز اٹھائی ہو، بہتر الیکشن کمیشن کا مطالبہ کیا ہو، تو اس طرح بیڈ روم میں گھس کر اٹھا لیا جاتا ہے؟ اغوا کر لیا جاتا ہے؟ اس کے والدین کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے، ہاتھا پائی کی جاتی ہے۔ اسے اس طرح لے جایا جاتا ہے۔ کسی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ نریندر مودی نے اس ملک کو ڈکٹیٹر شپ بنا دیا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وہ ملک سے جڑے مسائل پر اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ دھرو راٹھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ لوگ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہے ہیں اور وہ اپنے گھر سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔