بے قابو ذیابیطس کے بعض مریضوں میں میٹابولک سرجری سے افاقہ ممکن/ ایمس ڈاکٹر

بے قابو ذیابیطس کے بعض مریضوں میں میٹابولک سرجری سے افاقہ ممکن/ ایمس ڈاکٹر

بعض مریضوں میں ادویات اور طرز زندگی میں تبدیلیاں ہی کافی ثابت ہوتی ہیں

سرینگر/ /یو این ایس / ایمس کے ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میٹابولک سرجری ٹائپ 2 ذیابیطس کے بعض منتخب مریضوں میں بیماری سے عارضی یا طویل مدتی افاقہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ ایسے متعدد مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح کو بہتر طور پر قابو کرنے میں بھی معاون ہوسکتی ہے جن کی ذیابیطس مناسب طبی علاج کے باوجود قابو میں نہ آرہی ہو۔محکمہ سرجری کے پروفیسر ڈاکٹر منجوناتھ ماروتی نے کہا کہ میٹابولک سرجری کو ہر ذیابیطس مریض کے علاج کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ان مریضوں کیلئے شواہد پر مبنی علاج کے اختیارات میں سے ایک ہے جن میں ادویات اور طرز زندگی میں تبدیلی کے باوجود خون میں شوگر کی سطح قابو میں نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ بعض مریضوں میں ادویات اور طرز زندگی میں تبدیلیاں ہی کافی ثابت ہوتی ہیں، تاہم کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں مناسب طبی علاج کے باوجود ذیابیطس بے قابو رہتی ہے۔ ایسے مریضوں میں میٹابولک سرجری سے بیماری میں افاقہ اور بعض صورتوں میں خون میں شوگر کی سطح پر نمایاں بہتر کنٹرول حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ڈاکٹر منجوناتھ کے مطابق ان کے یونٹ میں اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کے تحت میٹابولک سرجری پر اس وقت غور کیا جاسکتا ہے جب مریض کا ایچ بی اے ون سی، جو اوسط خون میں شوگر کی سطح کا پیمانہ ہے، تین سے زیادہ ذیابیطس کی ادویات استعمال کرنے کے باوجود 7.5 فیصد سے زیادہ برقرار رہے۔ اس میں جی ایل پی ون ریسیپٹر ایگونسٹ یا انسولین کا استعمال بھی شامل ہوسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مریض کو کم از کم دو سال سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایسے مریضوں میں بھی سرجری پر غور کیا جاسکتا ہے جنہیں خون میں شوگر قابو میں رکھنے کیلئے ادویات ناکافی ثابت ہونے کے بعد انسولین شروع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہو یا انسولین شروع کردی گئی ہو۔ڈاکٹر منجوناتھ نے کہا کہ ایچ بی اے ون سی کی سطح سے قطع نظر ذیابیطس سے متعلق ابتدائی اعضائ کی خرابی بھی میٹابولک سرجری کیلئے ایک اہم اشارہ ہوسکتی ہے۔ ان میں پیشاب میں پروٹین یا البیومین کی موجودگی، چلنے کے دوران ٹانگوں میں درد، دل سے متعلق سینے کا درد، انجیو پلاسٹی یا اسٹنٹ لگنے کی تاریخ، عارضی فالج یا فالج اور ذیابیطس کے باعث بینائی میں کمی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سادہ الفاظ میں بے قابو ذیابیطس سے مراد ایسی حالت ہے جس میں تین سے زائد ادویات کے باوجود بیماری مناسب طور پر قابو میں نہ آئے، انسولین شروع کرنے کی ضرورت پیش آئے یا ذیابیطس اہم اعضائ کو نقصان پہنچانا شروع کردے۔ڈاکٹر منجوناتھ نے کہا کہ میٹابولک سرجری کی ابتدائی لاگت کا موازنہ بے قابو ذیابیطس کے باعث مستقبل میں پیدا ہونے والے طبی اور معاشی بوجھ سے کیا جانا چاہیے۔ طویل عرصے تک بے قابو ذیابیطس گردوں کی ناکامی، ڈائیلاسس یا ٹرانسپلانٹ، دل کی بیماری، بائی پاس سرجری، ذیابیطس سے متعلق آنکھوں کی پیچیدگیوں، خون کی نالیوں کی بیماری، بعض شدید صورتوں میں اعضا کاٹنے اور فالج جیسے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی علاج اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ یہ پیچیدگیاں کبھی پیدا نہیں ہوں گی، تاہم میٹابولک سرجری کے بعد جسمانی اور میٹابولک صحت میں مسلسل بہتری ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں کے طویل مدتی بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذیابیطس سے نمٹنے کیلئے روک تھام کو اولین ترجیح ہونی چاہیے، جس کیلئے صحت مند غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور میٹابولک بیماری کی بروقت تشخیص ضروری ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو بروقت مو ¿ثر طبی علاج فراہم کیا جانا چاہیے، جبکہ جن مریضوں میں مناسب علاج کے باوجود بیماری قابو میں نہ آئے، انہیں ذیابیطس اور میٹابولک سرجری کے ماہرین پر مشتمل ٹیم سے معائنہ کرانا چاہیے۔ڈاکٹر منجوناتھ نے بتایا کہ ان کے یونٹ میں بے قابو ٹائپ 2 ذیابیطس کے 67 مریضوں کے علاج کے تجربے میں 18 ایسے مریض بھی شامل تھے جن کا باڈی ماس انڈیکس 23 سے 35 کلوگرام فی مربع میٹر کے درمیان تھا اور وہ 15 سے 25 سال سے ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ ان کے مطابق یہ تجربہ ایسے مریضوں میں میٹابولک سرجری کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم سرجری کے بعد ذیابیطس سے افاقے اور میٹابولک بہتری کے طویل مدتی اثرات جانچنے کیلئے مزید مسلسل تحقیق ضروری ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس کے باعث اہم اعضائ کو نقصان پہنچنے کا انتظار کیے بغیر علاج میں شدت لانی چاہیے۔ ان کے مطابق میٹابولک سرجری ہر مریض کیلئے نہیں ہے، تاہم مناسب مریض میں مناسب وقت پر اور تجربہ کار طبی ٹیم کے ذریعے یہ علاج کا مو ¿ثر حصہ ثابت ہوسکتی ہے۔